جے یو آئی ترجمان نے پی ٹی آئی کے کرپشن اسکینڈلز کا پردہ فاش کر دیا

پشاور: خیبرپختونخوا میں سینیٹ انتخابات کے بعد سیاسی جماعتوں کے مؤقف اور الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔

جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے صوبائی ترجمان عبدالجلیل جان نے پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے حکومت، پی ٹی آئی اور خود اپنی جماعت سے متعلق اہم نکات پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ سینیٹ انتخابات میں ہر جماعت کو اُس کی عددی حیثیت کے مطابق نشستیں ملی ہیں۔ اپوزیشن کی جانب سے تجویز کردہ 5/6 فارمولہ ہی حکومت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوا۔ ان کے بقول اگر یہ مفاہمت نہ ہوتی تو ممکن تھا کہ حکومت چھ نشستیں بھی حاصل نہ کر پاتی۔

سرمایہ دار امیدواروں پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے عبدالجلیل جان کا کہنا تھا کہ اگر ہماری جماعت میں کوئی سرمایہ دار ہے تو یہ کوئی گناہ نہیں۔ ٹکٹ دینے کا ایک باقاعدہ طریقہ کار ہے، جس کے تحت عطاء الحق درویش اور دلاور خان کو نامزد کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ جے یو آئی اپنے سینیٹرز کو مجلسِ شوریٰ کی رہنمائی میں قانون سازی کے لیے تیار کرتی ہے اور ہر بل پر اپنی جماعت کے نظریاتی مؤقف کو مدنظر رکھا جاتا ہے، نہ کہ سیاسی مصلحتوں کو۔

پی ٹی آئی کی حالیہ سیاسی حکمت عملی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ علی امین گنڈاپور اور چند دیگر افراد نے پی ٹی آئی کو ختم کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔

ان کے مطابق پی ٹی آئی کی سنجیدہ قیادت جب جے یو آئی قیادت سے ملنے آتی ہے تو سب سے پہلے علی امین گنڈاپور کے بیانات پر معذرت کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی اندرونی خلفشار کا شکار، سینیٹ فیصلے بیانیے کو نقصان پہنچا رہے ہیں، کاشف الدین سید

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی خیبرپختونخوا میں 12 سالہ حکمرانی کے دوران جو کرپشن اسکینڈلز سامنے آئے، وہ خود اس کی اپنی حکومت اور رہنماؤں کی جانب سے منظر عام پر لائے گئے، جو اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ اندرونی خلفشار اور مفادات کی لڑائی نے جماعت کو نقصان پہنچایا۔

عبدالجلیل جان کے مطابق جے یو آئی نے ہمیشہ اصولوں پر سیاست کی ہے اور آئندہ بھی مؤقف کی مضبوطی اور جمہوری اقدار کے ساتھ اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔

Scroll to Top