گلگت بلتستان کے علاقے تھک بابوسر میں حالیہ شدید سیلاب نے تباہی کے ان گنت نشان چھوڑ دیے ہیں، سیلابی ریلوں نے جہاں قدرتی حسن کو نقصان پہنچایا وہیں مقامی آبادی اور سیاحوں کو شدید متاثر کیا۔
شدید سیلاب نے علاقے میں وسیع پیمانے پر تباہی مچائی ہے، سیکڑوں مکانات، زرعی زمینیں، باغات، سکول، مساجد، پن چکیاں اور دیگر بنیادی ڈھانچے مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔
متاثرہ علاقوں کے مکین کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، خوراک، صاف پانی، ٹینٹ اور دیگر ضروری اشیائے زندگی کی شدید قلت نے صورتحال کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔
متعدد سڑکیں بند ہونے سے امدادی کارروائیوں میں بھی رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں جس کے باعث متاثرین تک امدادی سامان کی بروقت فراہمی ممکن نہیں ہو پا رہی۔
سیلاب سے نہ صرف مقامی آبادی مشکلات کا شکار ہے بلکہ گلگت بلتستان میں جاری سیاحتی سیزن بھی بری طرح متاثر ہوا ہے، جس سے مقامی معیشت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
پاک آرمی جدید گراؤنڈ سرویلنس ریڈار سسٹم کے ذریعے لاپتہ سیاحوں کی تلاش کا ریسکیو آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے ریسکیو ذرائع کے مطابق اب تک 7 سیاحوں کو زندہ بچا لیا گیا ہے جبکہ 10 گاڑیاں سیلابی پانی میں بہہ گئیں جن میں متعدد سیاح سوار تھے۔
ریسکیو آپریشن میں پاک فوج کے دستوں کے ساتھ ساتھ سول انتظامیہ اور مقامی رضاکار بھی بھرپور حصہ لے رہے ہیں، حکام نے متاثرین کے لیے فوری امداد، عارضی رہائش اور بحالی کے اقدامات کو ترجیح دینے پر زور دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان میں سیلابی ریلے 9 زندگیاں نگل گئے، 12 افراد لاپتہ، بڑے پیمانے پر تباہی
عوامی حلقوں اور فلاحی تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ریلیف سرگرمیوں میں تیزی لائے اور علاقے کو آفت زدہ قرار دے کر مستقل بحالی کا منصوبہ پیش کرے۔





