خیبرپختونخوا میں سینیٹ کی خالی نشست پر آج ہونے والے ضمنی انتخاب کا پولنگ عمل مقررہ وقت پر شروع نہیں ہو سکا۔
تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن کی جانب سے اعلان کردہ شیڈول کے مطابق پولنگ صبح 9 بجے سے شام 4 بجے تک جاری رہنی تھی، تاہم اسمبلی ہال میں مختلف انتظامی و سیاسی وجوہات کی بناء پر تاخیر کا سامنا ہے۔
نجی ٹی وی چینل (دنیا نیوز )کے مطابق سینیٹ کی یہ نشست پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سابق سینیٹر ثانیہ نشتر کے استعفے کے بعد خالی ہوئی تھی، جس پر اب 5 خواتین امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق ضمنی انتخاب کے لیے خیبرپختونخوا اسمبلی کو پولنگ اسٹیشن قرار دیا گیا ہے، جہاں اراکین اسمبلی خفیہ رائے شماری کے ذریعے اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ اسمبلی کے اندر موبائل فون لے جانے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے تاکہ ووٹنگ کے عمل کو شفاف اور غیر جانبدار رکھا جا سکے۔
خیبرپختونخوا اسمبلی کے ایوان کی کل تعداد 145 ہے، جس میں حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اراکین کی تعداد 92 ہے، جبکہ اپوزیشن کی مجموعی تعداد 53 ہے۔ ان میں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے 18، 18، پاکستان پیپلز پارٹی کے 10، عوامی نیشنل پارٹی کے 4 اور پی ٹی آئی پارلیمنٹرین کے 3 اراکین شامل ہیں۔
پولنگ کے عمل میں تاخیر کی وجوہات سے متعلق تاحال کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ذرائع کے مطابق اسمبلی میں سیاسی جماعتوں کے درمیان مشاورت اور پولنگ عملے کی تیاریوں میں کچھ تکنیکی مسائل درپیش ہیں۔
الیکشن کمیشن نے تمام متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ پولنگ کے عمل کو شفاف، پرامن اور بروقت مکمل کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات فوری طور پر کیے جائیں۔





