نئی دہلی : روس سے تیل خریدنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اضافی تجارتی ٹیرف کی دھمکی پر بھارت نے سخت ردعمل دیا ہے اور کہا ہے کہ امریکا خود بھی روس سے درآمدات کرتا ہے، اس لیے بھارت پر تنقید غیر منصفانہ ہے۔
بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امریکا اپنی جوہری صنعت کے لیے روس سے یورینیم کمپاؤنڈ خریدتا ہے اور متعدد دیگر اشیاء بھی درآمد کرتا ہے، لیکن جب بھارت رعایتی نرخوں پر روسی تیل خریدے تو اعتراض کیا جاتا ہے۔
ترجمان کے مطابق بھارت اپنی توانائی کی ضروریات اور معاشی مفادات کی بنیاد پر فیصلے کرتا ہے، نہ کہ بیرونی دباؤ پر۔ بھارت نے واضح کیا کہ روس سے تیل خریداری کا آغاز یوکرین جنگ کے بعد اُس وقت ہوا جب روایتی سپلائیز یورپ منتقل ہو گئی تھیں۔
بھارتی بیان میں یورپی ممالک کی روس سے جاری تجارت کا بھی حوالہ دیا گیا، جس کے مطابق 2024 میں یورپی یونین اور روس کے درمیان 67.5 ارب یورو کی اشیاء اور 17.2 ارب یورو کی خدمات کی تجارت ہوئی، جب کہ یورپ نے 1 کروڑ 65 لاکھ ٹن روسی گیس درآمد کی۔
اس کے برعکس بھارت کی روس کے ساتھ تجارت نسبتاً محدود ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکا آج بھی روس سے یورینیم، پیلڈیم، کھاد اور کیمیکل درآمد کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ٹرمپ نے بھارت پر مزید ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دیدی
قبل ازیں صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا بیان میں بھارت پر الزام لگایا تھا کہ وہ روسی تیل خرید کر منافع کما رہا ہے اور یوکرین میں جاری جنگ سے بے پروا ہے، اسی وجہ سے بھارت پر مزید تجارتی ٹیرف عائد کیے جائیں گے۔
واضح رہے کہ بھارت اس وقت روزانہ تقریباً 20 لاکھ بیرل روسی تیل درآمد کر رہا ہے، جو اس کی مجموعی تیل درآمدات کا بڑا حصہ ہے۔





