خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے میں تعلیمی معیار کی بہتری کے لیے بڑا قدم اٹھاتے ہوئے ناقص کارکردگی کے حامل 1500 سرکاری اسکولوں اور 55 کالجوں کو آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکام کے مطابق اس عمل کا مقصد تعلیمی اداروں کی کارکردگی میں بہتری لانا اور طلبہ کو بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے۔
چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کے مطابق، آؤٹ سورس کیے جانے والے اداروں میں ضم اضلاع کے 500 اسکول بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ’’یہ اقدام وقتی ضرورت سے زیادہ ایک اصلاحاتی عمل ہے، جس کا مقصد ناقص تعلیمی نتائج والے اداروں کی بہتری ہے۔ آؤٹ سورسنگ کے لیے صرف وہ تنظیمیں منتخب کی جائیں گی جو اعلیٰ معیار پر پورا اتریں گی۔‘‘
میٹرک کے نتائج پر تشویش
نجی ٹی وی چینل (ہم نیوز)کے مطابق یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب خیبرپختونخوا میں میٹرک کے حالیہ نتائج نے تعلیمی نظام کی کارکردگی پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ متعدد سرکاری اسکولوں میں کامیابی کی شرح انتہائی کم رہی، جبکہ کچھ اسکولوں میں تو کامیابی کی شرح صفر فیصد ریکارڈ کی گئی۔
معیار کی بہتری حکومت کی اولین ترجیح
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ صرف ان اداروں کو آؤٹ سورس کیا جا رہا ہے جن کی تعلیمی کارکردگی مسلسل خراب رہی ہے۔ نئے انتظامی ماڈل کے تحت ان اداروں کو نجی تعلیمی تنظیموں یا غیر سرکاری اداروں کے حوالے کیا جائے گا تاکہ وہاں تعلیمی ماحول، تدریسی عمل اور نظم و ضبط میں بہتری لائی جا سکے۔
مستقبل میں توسیع کا امکان
حکام نے عندیہ دیا ہے کہ اگر یہ ماڈل کامیاب رہا تو آئندہ مرحلے میں مزید تعلیمی اداروں کو بھی اس فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، والدین اور اساتذہ کی تنظیموں کی جانب سے اس پالیسی پر ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔





