پشاور : وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور سے نتھیا گلی ہوٹل ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات ہوئی، جس میں سیاحتی علاقوں میں ہوٹل مالکان کو درپیش مسائل، معیاری سہولیات اور سیاحتی ترقی کے امور زیرِ بحث آئے۔
اس موقع پر صوبائی کابینہ کے اراکین خلیق الرحمن اور مزمل اسلم سمیت متعلقہ محکموں کے حکام بھی موجود تھے۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں سیاحت کے بے پناہ امکانات ہیں، اور ہم ایک مربوط حکمت عملی کے تحت اقدامات کر رہے ہیں۔ نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے ساتھ حکومت سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کر رہی ہے۔
قدرتی ماحول کو تحفظ فراہم کرنا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے، اور اس کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ صوبے میں تین مزید سیاحتی مقامات کو ترقی دی جائے گی اور رابطہ سڑکوں کی تعمیر کی بھی نگرانی ہو رہی ہے۔
وفد نے ہوٹل مالکان کی درپیش مشکلات سے وزیرِ اعلیٰ کو آگاہ کیا، جن میں غیر رجسٹرڈ ہوٹلوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے اور ٹیکسوں کے نظام کی بہتری شامل تھی۔
وزیرِ اعلیٰ نے جوابًا کہا کہ ٹیکس نظام میں شفافیت لانے کے لیے ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم متعارف کرایا جا رہا ہے۔ ہوٹل انڈسٹری کے لیے یونیفارم ٹیکسیشن پالیسی اور پانچ سالہ ٹیکس پالیسی ترتیب دی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : کمبوڈیا نے ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کردیا
سیاحتی علاقوں میں پانی کی مستقل فراہمی کے منصوبے پر کام جاری ہے، اور نارا ن کاغان میں سیاحوں کے لیے ہسپتال اور رابطہ سڑکوں کی بحالی کا منصوبہ شامل ہے۔
وزیرِ اعلیٰ نے وفد کا وقت اور تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے یقین دلایا کہ صوبائی حکومت ہوٹل مالکان کے ساتھ بھرپور تعاون جاری رکھے گی۔





