وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے انسانی سمگلنگ اور حوالہ ہنڈی سمیت غیر قانونی کرنسی ایکسچینج کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران تین اہم ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔
ایف آئی اے کے ترجمان کے مطابق پشاور زون نے لیبیا کے راستے انسانی سمگلنگ میں ملوث بین الاقوامی نیٹ ورک کے مرکزی ملزم عادل عرف شیر خان کو گرفتار کر لیا ہے۔
ملزم عادل اس نیٹ ورک کا ماسٹر مائنڈ ہے جو لیبیا سے یورپ تک غیر قانونی سمندری راستے سے انسانی سمگلنگ کا منظم نیٹ ورک چلا رہا تھا
ترجمان کے مطابق ملزم واٹس ایپ کے ذریعے معصوم شہریوں سے رابطہ کرتا، جعلی ویزے اور دستاویزات فراہم کرتا اور انہیں لیبیا کے ذریعے یورپ بھجوانے کے جھانسے دیتا تھا۔
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ نیٹ ورک کے دیگر کارندے صدام، درویش خان اور الیاس خان پہلے ہی گرفتار ہو چکے ہیں جنہوں نے تفتیش کے دوران مرکزی ملزم عادل کی نشاندہی کی۔
عادل کو چارسدہ میں چھاپہ مار کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا اور اس کے خلاف تفتیش شروع کر دی گئی ہے، نیٹ ورک میں شامل دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔
ایف آئی اے نے حوالہ ہنڈی اور غیر قانونی کرنسی ایکس چینج میں ملوث تین اہم ملزمان رفیع اللہ، نیاز ولی اور لطیف الرحمٰن کو بھی گرفتار کیا ہے۔
ملزمان پشاور کے کارخانو مارکیٹ اور بٹاگرام تھاکوٹ کے مختلف علاقوں سے پکڑے گئے، چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران ملزمان کے قبضے سے 2 کروڑ 11 لاکھ 60 ہزار روپے برآمد ہوئے جو کہ غیر قانونی ذرائع سے حاصل کی گئی رقم ہے۔
اس کے علاوہ متعدد موبائل فونز اور حوالہ ہنڈی سے متعلق دیگر اہم شواہد بھی تحویل میں لیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بنوں تختی خیل پوسٹ ایک بار پھر دہشتگردوں کے نشانے پر
ایف آئی اے کے مطابق ملزمان برآمد شدہ کرنسی کے حوالے سے تفتیشی حکام کو تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہے جس پر انہیں حراست میں لے کر تحقیقات شروع کی گئی ہیں۔





