اضاخیل گندم سٹوریج سے گندم غائب ہونے کا کیس، عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا

نوشہرہ میں اضاخیل گندم سٹوریج سے سیکڑوں ٹن گندم غائب ہونے کے کیس میں گندم سٹوریج آفیسر محمد ارشد کی ضمانت کی درخواست پر پشاور ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔

درخواست پر سماعت جسٹس سید ارشد علی نے کی، فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا۔

 سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ محمد ارشد پر کوئی کریمنل الزام نہیں بلکہ صرف کوتاہی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے مؤکل کا کام صرف فراہم کردہ ریکارڈ کی جانچ کرنا ہے اور وہ اکیلے اس معاملے میں ملوث نہیں دیگر افراد بھی شامل ہیں۔

درخواست گزار کے وکیل نے مزید مؤقف اپنایا کہ ان کا مؤکل اپنے خرچے پر باہر سے گندم کا وزن کروانے کے لیے بھی تیار ہے۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اس کیس میں 1700 میٹرک ٹن گندم غائب ہوئی ہے، 3300 خالی بوریاں بھی لاپتہ ہیں، جس سے قومی خزانے کو 19 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان پہنچا ہے، اسی کیس میں دیگر ملزمان کی ضمانتیں چیف جسٹس پہلے ہی خارج کر چکے ہیں۔

سماعت کے دوران جسٹس ارشد علی نے فوڈ ڈیپارٹمنٹ اور اینٹی کرپشن حکام سے سخت سوالات کیے، جسٹس ارشد علی نے استفسار کیا کہ فوڈ ڈیپارٹمنٹ نے اب تک کتنے افراد کی نشاندہی کی ہے جس پر ایڈیشنل ڈائریکٹر فوڈ نے بتایا کہ اعلیٰ سطحی انکوائری کے لیے چیف سیکرٹری کو خط لکھا گیا ہے۔

جسٹس ارشد علی نے اینٹی کرپشن حکام پر بھی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اینٹی کرپشن والے صرف بیٹھے رہتے ہیں،  موقع پر جا کر نہیں دیکھتے، آڈٹ سے کچھ نہیں ہوتا، اصل مسئلہ فیزیکل سطح پر ہے، عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا

Scroll to Top