امریکا روس تعلقات میں نئی ہلچل، الاسکا ملاقات نے عالمی توجہ حاصل کرلی

الاسکا: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان ایک اہم اور طویل ملاقات جوائنٹ بیس ایلمینڈورف-رچرڈسن (JBER) میں ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں نے یوکرین جنگ سمیت کئی دوطرفہ اور عالمی امور پر تبادلۂ خیال کیا۔

ملاقات تقریباً تین گھنٹے جاری رہی، جس میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف بھی شریک تھے۔

ملاقات کے دوران یوکرین میں تین سال سے جاری جنگ کو مرکزی موضوع کی حیثیت حاصل رہی۔ باخبر ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ نے جنگ بندی کی خواہش کا اظہار کیا جبکہ صدر پیوٹن نے بھی مذاکرات کے ماحول کو مثبت قرار دیا۔

ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے روسی صدر پیوٹن نے کہا صدر ٹرمپ سے ملاقات مثبت اور تعمیری رہی۔ انہوں نے مذاکرات کے لیے دعوت دی، جس پر میں ان کا شکر گزار ہوں۔

انہوں نے واضح کیا کہ روس بھی پرامن حل کا خواہاں ہے، تاہم تمام فریقین کو سنجیدہ طرز عمل اپنانا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں : صدر ٹرمپ اور پیوٹن مذاکرات کے لیے الاسکا پہنچ گئے

صدر ٹرمپ نے گفتگو کے دوران کہا کہ اگر یہ ملاقات مؤثر ثابت ہوئی تو مستقبل میں صدر پیوٹن اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کے ساتھ ایک تہرے مذاکراتی فریم ورک پر کام کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم ایک ایسی دوسری ملاقات چاہتے ہیں جو صرف امن کی طرف قدم نہ ہو بلکہ دنیا کو حقیقی استحکام کی طرف بھی لے جائے۔

Scroll to Top