بین الاقوامی ماہرینِ فلکیات نے ایک ایسا دیوقامت بلیک ہول دریافت کیا ہے جس کا وزن ہمارے سورج سے 36 ارب گنا زیادہ ہے۔
یہ بلیک ہول کائناتی گھوڑے کی شکل والی ایک دیوقامت کہکشاں کے مرکز میں موجود ہے، جو زمین سے تقریباً 5 ارب نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔
یہ دریافت فلکیات کی دنیا میں ایک اہم سنگِ میل تصور کی جا رہی ہے، کیونکہ یہ بلیک ہول ملکی وے کہکشاں کے مرکز میں موجود بلیک ہول سے 10,000 گنا زیادہ وزنی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ بلیک ہول فی الحال نہ تو کسی قسم کا مواد نگل رہا ہے اور نہ ہی کسی روشن توانائی کی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے، جیسا کہ اکثر بلیک ہولز کے ساتھ ہوتا ہے۔
اس کا وجود صرف اس کے گرد موجود ستاروں اور کہکشاؤں کی تیز رفتار حرکت سے ظاہر ہوتا ہے، جن کی رفتار 400 کلومیٹر فی سیکنڈ تک پہنچتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان نے بھارت کے لیے فضائی حدود سے متعلق حیران کن فیصلہ کر دیا
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے ایک اور اہم نکتہ سامنے آیا ہے: بڑی کہکشائیں اکثر بڑے بلیک ہولز کی حامل ہوتی ہیں۔
کائناتی گھوڑے کی شکل والی یہ کہکشاں ایک فوسل گروپ ہے، یعنی ایک ایسی کہکشاں جو کئی بڑی کہکشاؤں کے آپس میں ضم ہونے سے بنی ہے۔
ان کے مراکز میں موجود بلیک ہولز کا امتزاج بالآخر ایک انتہائی عظیم بلیک ہول کی صورت اختیار کر گیا۔





