بھارت میں مودی سرکار آپریشن سندور میں بدترین شکست کے باوجود اپنے جنگی عزائم سے باز نہ آئی۔
دفاعی حکمت عملی کی آڑ میں بی جے پی حکومت جدید ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی کی خریداری میں مصروف ہے۔
حالیہ پیشرفت میں بھارت نے چھ جدید ایئر بورن ارلی وارننگ اینڈ کنٹرول طیارے خریدنے کا فیصلہ کیا ہے جو اے 321 لیٹ فارم پر مبنی ہوں گے۔
بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق بھارت اس وقت اے ای ڈبلیو اینڈ سی کے میدان میں پاکستان سے پیچھے ہے اور سرحدوں پر مؤثر نگرانی کے لیے جدید ریڈار سسٹم کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔
چھ اے ای ڈبلیو اینڈ سی طیاروں کی خریداری کا معاہدہ مودی حکومت کے جارحانہ عزائم کا واضح ثبوت ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت نے اس فیصلے کو پاکستان کی مستحکم دفاعی پوزیشن کا غیر اعلانیہ اعتراف بناتے ہوئے اپنی شکست کا جواز فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔
آپریشن سندور میں پاکستان نے نہ صرف بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دیا بلکہ اپنی صلاحیت اور دفاعی برتری کو بھی منوایا۔
سفارتی و دفاعی ماہرین مودی کے جنگی جنون کو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرناک قرار دے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب نے بھارتی مداخلت کو علاقائی امن کے لیے خطرہ قرار دے دیا
بھارت کی اس نئی دفاعی دوڑ سے خطے میں اسلحے کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے جس سے جنوبی ایشیا میں عدم استحکام مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔





