جائنٹ اسٹئیرنگ کمیٹی کا اجلاس :ضم اضلاع میں گھروں کیلئے سولر سسٹم کی فراہمی اور پولیس انفراسٹرکچر کی تعمیرکے فیصلے

سید کاشف الدین
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت ضم شدہ اضلاع کے لئے قائم جائنٹ اسٹئیرنگ کمیٹی کا پہلا اجلاس منعقد ہوا جس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، انجنیئر امیر مقام اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی مبارک زیب بھی شریک ہوئے۔

اجلاس میں وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے خزانہ مذمل اسلم، ایڈیشنل چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا، 11 کور کے نمائندے اور دیگر متعلقہ وفاقی و صوبائی حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں ضم اضلاع کے تیز رفتار ترقیاتی پروگرام کے تحت جاری منصوبوں اور فنڈز کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ متعلقہ حکام نے ضم اضلاع میں ترقیاتی کاموں خصوصاً فنڈز کی دستیابی پر بریفنگ دی۔

اے آئی پی کے تحت ضم اضلاع میں گھروں کو سولر سسٹم کی فراہمی، پولیس انفراسٹرکچر کی تعمیر اور فاٹا یونیورسٹی کو مستحکم کرنے کے لیے مشترکہ منصوبہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ بریفنگ میں ضم اضلاع میں گھروں کو سولر سسٹم فراہم کرنے کے منصوبے کی لاگت تقریباً 13.3 ارب روپے بتائی گئی۔

اجلاس میں تیز رفتار ترقیاتی پروگرام کے تحت منصوبوں پر عملدرآمد کے لئے ترجیحات طے کرنے کے لیے ٹیکنیکل کمیٹی بھی تشکیل دی گئی جو وفاقی و صوبائی حکام اور 11 کور کے نمائندوں پر مشتمل ہوگی۔

اجلاس میں وفاقی اور صوبائی حکومت نے ضم اضلاع کی ترقی، امن و امان کی بحالی، انفراسٹرکچر کی بہتری، تجارتی سرگرمیوں کے فروغ اور روزگار کے مواقع کو اولین ترجیح دینے پر اتفاق کیا۔

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ وفاقی حکومت کی طرف سے ضم اضلاع کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز کی کم فراہمی مسائل کا باعث بنی ہوئی ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ وفاق نے ضم اضلاع کے لیے سالانہ 100 ارب روپے فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا، تاہم گزشتہ چھ سالوں میں صرف 158 ارب روپے ملے ہیں جبکہ اس مد میں صوبے کو 600 ارب روپے ملنے تھے۔ اے آئی پی کے تحت منظور شدہ منصوبوں کی تکمیل کے لیے 269 ارب روپے درکار ہیں۔

این ایف سی میں ضم اضلاع کا حصہ 4.8 فیصد بنتا ہے جو صوبے کو فراہم نہیں کیا جا رہا، اور وفاقی حکومت کی طرف سے وزیرستان کے بے گھر ہونے والے افراد کے معاوضے کی رقم بھی نہیں دی گئی۔ فنڈز کی کمی کی وجہ سے صوبائی حکومت اپنے وسائل سے ضم اضلاع پر اضافی اربوں روپے خرچ کر رہی ہے۔

وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ضم اضلاع کا مسئلہ صرف صوبے کا نہیں بلکہ پورے ملک کا ہے اور سب کو اس میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ضم اضلاع کے ترقیاتی فنڈ کا مسئلہ نئے این ایف سی سے جڑا ہوا ہے، جسے وفاق نے اسی مہینے حل کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ نئی این ایف سی وقت کی اہم ضرورت اور آئین کا تقاضا ہے اور اگر ضم اضلاع کو ان کا جائز حصہ مل گیا تو مسائل بہت حد تک حل ہو جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں : شمالی وزیرستان میں دو دن کےلیے مکمل کرفیو نافذکرنے کا اعلان

انہوں نے کہا کہ ضم اضلاع میں امن کی بحالی کے لیے لوگوں کو روزگار فراہم کرنا اور انہیں سہولیات مہیا کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اجلاس کے شرکاء نے ضم اضلاع میں امن، ترقی اور عوام کی محرومیوں کے خاتمے کے لیے مل کر کام کرنے کا عزم کیا۔

Scroll to Top