پاکستان کی آٹوموبائل مارکیٹ میں سوزوکی آلٹو کو شدید دھچکا لگا ہے جو کہ کمپنی کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی گاڑی شمار ہوتی ہے۔
پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (PAMA) کے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق، جولائی 2025 میں سوزوکی آلٹو کی فروخت میں 75 فیصد کی ڈرامائی کمی واقع ہوئی ہے۔
جون 2025 میں آلٹو کے 9,497 یونٹس فروخت ہوئے تھے جبکہ جولائی میں یہ تعداد گھٹ کر صرف 2,327 رہ گئی۔ اس کمی کا موازنہ گزشتہ سال جولائی سے بھی کیا جائے تو اس وقت آلٹو کی فروخت 2,869 یونٹس رہی تھی، یعنی سال بہ سال بھی کمی دیکھی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق گاڑیوں پر بڑھتے ہوئے ٹیکسز اس کمی کی بڑی وجہ ہیں۔ حکومت نے 850 سی سی تک گاڑیوں پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) 12.5 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کر دیا ہے۔ ساتھ ہی ایک نئی ” ای وی لیوی” بھی نافذ کی گئی ہے، جس کے تحت 1300 سی سی تک گاڑیوں پر 1 فیصد اضافی لیوی عائد کی گئی ہے۔ چونکہ آلٹو 1300 سی سی کے زمرے میں آتی ہے، لہٰذا اسے دونوں ٹیکسز کا سامنا کرنا پڑا۔
پاکستان سوزوکی موٹرز کمپنی (PSMC) نے ٹیکسوں میں اضافے کے بعد آلٹو کی قیمت 33 لاکھ 26 ہزار 450 روپے تک بڑھا دی ہے، جس کی وجہ سے بجٹ میں گاڑی خریدنے والے صارفین کے لیے یہ ماڈل مزید مہنگا اور ناقابلِ رسائی بن گیا ہے۔





