دنیا بھر میں کروڑوں افرادتھائیرائیڈ کے امراض ہائپوتھائیرائیڈزم اور ہائپر تھائیرائیڈزم جیسے مسائل کا شکار ہیںجو جسم کے میٹابولزم سے لے کر عمومی توانائی کی سطح تک ہر پہلو پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
اگرچہ تھائیرائیڈ کی حالت ہر فرد میں مختلف ہو سکتی ہے لیکن ایک چیز واضح ہےکہ غذائی بے احتیاطی ہارمونز کے توازن کو مزید بگاڑ سکتی ہے۔ اسی لیے ڈاکٹر اکثر ایسی غذا سے پرہیز کا مشورہ دیتے ہیں جو تھائیرائیڈ ہارمون کی سطح پر منفی اثر ڈالتی ہو۔
سویا سے بنی اشیاء جیسے ٹوفو، سویا دودھ اور دیگر نباتاتی پروٹینز، فائٹوایسٹروجن اور گوئٹروجینز پر مشتمل ہوتی ہیںجو آیوڈین کی کمی کی صورت میں تھائیرائیڈ ہارمونز کی پیداوار میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ ان اشیاء کا محدود استعمال زیادہ محفوظ سمجھا جاتا ہے۔
اسی طرح، گلوٹن سے بھرپور خوراک جیسے روٹی، پاستا اور سیریلز بعض افراد میں مدافعتی ردعمل کو بڑھا کر آنتوں کی سوزش پیدا کر سکتی ہے، جو دوا کے جذب میں رکاوٹ ڈالتی ہے۔
تیل میں تلی ہوئی اور پراسیسڈ غذائیں، جیسے چپس، فاسٹ فوڈ یا زیادہ نمک والی اشیاء، نہ صرف بلڈ پریشر بڑھاتی ہیں بلکہ میٹابولزم کو سست کر کے تھائیرائیڈ کی کارکردگی پر براہِ راست منفی اثر ڈالتی ہیں۔ اسی طرح، زیادہ شکر والی اشیاء خون میں انسولین کی سطح کو بگاڑ کر تھائیرائیڈ کے مریضوں میں تھکن، وزن میں اضافہ اور سستی جیسی علامات کو بڑھا سکتی ہیں۔
الکحل کا استعمال تھائیرائیڈ گلینڈ کے کام کو دبا دیتا ہے اور ہارمونز کی کارکردگی کو متاثر کرتا ہے۔ بروکلی، بند گوبھی اور دیگر کچی سبزیاں گوئٹروجینز پر مشتمل ہوتی ہیں، جنہیں پکا کر استعمال کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے تاکہ ان کا منفی اثر کم ہو سکے۔
کچھ پھل، جیسے اسٹرابیری اور آڑو، اگر کثرت سے کھائے جائیں تو یہ بھی تھائیرائیڈ ہارمون کی پیداوار پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ نشاستہ دار غذائیں جیسے شکرقندی یا بعض علاقوں میں پائی جانے والی ملٹز، گویٹر کے خطرے سے منسلک سمجھی جاتی ہیں، خاص طور پر وہاں جہاں آیوڈین کی قلت ہو۔
مونگ پھلی، پائن نٹس یا دیگر گریوں کا زیادہ استعمال بھی تھائیرائیڈ کے مریضوں کیلئے نقصان دہ ہو سکتا ہے، کیونکہ ان میں بھی تھائیرائیڈ کی فعالیت کو متاثر کرنے والے اجزاء موجود ہوتے ہیں۔
کیفین سے بھرپور مشروبات، جیسے کافی یا چائے، نہ صرف تھائیرائیڈ کی دوا کے اثر کو کم کر سکتے ہیں بلکہ بعض علامات جیسے بے چینی اور دل کی دھڑکن میں اضافے کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔
ڈیری مصنوعات میں آیوڈین کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جو بعض مریضوں کیلئے نقصان دہ ہو سکتی ہے، خاص طور پر ہائپر تھائیرائیڈزم کی حالت میں۔ اسی طرح، آیوڈائزڈ نمک اور سمندری غذاؤں میں موجود آیوڈین کی زیادتی بھی بعض صورتوں میں تھائیرائیڈ ہارمون کی غیر معمولی پیداوار کا سبب بن سکتی ہے۔
یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ تھائیرائیڈ کی بیماری کا مؤثر انتظام ایک درست، متوازن غذا کے بغیر ممکن نہیں۔ ہر مریض کو اپنی طبی حالت، لیبارٹری رپورٹس اور ادویات کو مدنظر رکھتے ہوئے غذا کا انتخاب کرنا چاہیے۔ کسی بھی نئی خوراک کو معمول کا حصہ بنانے سے قبل ماہر ڈاکٹر یا ماہر غذائیت سے مشورہ ضرور لینا چاہیے تاکہ فائدے کے بجائے نقصان نہ ہو۔





