گندم کی قیمت میں اچانک اضافہ، روٹی نان کتنے مہنگے ہو سکتے ہیں؟عوام کیلئے بری خبر آگئی

گندم کی قیمت میں اچانک اضافہ، روٹی نان کتنے مہنگے ہو سکتے ہیں؟عوام کیلئے بری خبر آگئی

ملک بھر میں گندم کی قیمتوں میں اچانک اور نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے نتیجے میں آٹا اور اس سے جڑے روزمرہ اشیاء خصوصاً روٹی اور نان کی قیمتیں بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

مارکیٹ ذرائع کے مطابق صرف ایک ماہ کے دوران گندم کی فی من قیمت 2400 روپے سے بڑھ کر 3200 روپے تک پہنچ گئی ہے، جب کہ آٹے کے 20 کلو کے تھیلے کی قیمت میں 400 روپے تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس نے عام صارف کے لیے مسائل میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

روٹی اور نان کے نرخ بڑھانے کی تیاری نان بائی ایسوسی ایشن کے صدر نے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ گندم اور آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر روٹی اور نان کی قیمت میں بھی اضافہ ناگزیر ہو چکا ہے۔ان کا کہنا تھا’’ہم انتظامیہ سے اجازت لیے بغیر ازخود قیمتیں نہیں بڑھا سکتے، اسی لیے کل ڈپٹی کمشنر اسلام آباد سے ملاقات کر کے نئی قیمتوں کے لیے نوٹیفکیشن کی درخواست دیں گے۔’’نان بائی ایسوسی ایشن کے صدرنے بتایا کہ فی الحال روٹی 18 روپے اور نان 22 روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے، تاہم وہ روٹی کی نئی قیمت 20 روپے اور نان کی 25 روپے مقرر کرنے کی درخواست کریں گے۔

یا تو پرانے ریٹ پر آٹا دیں، یا قیمتیں بڑھانے دیں‘نان بائی ایسوسی ایشن نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اگر انتظامیہ نئی قیمتوں کی اجازت نہیں دیتی، تو پھر حکومت کو پرانے نرخوں پر آٹا فراہم کرنا ہوگا کیونکہ مہنگے آٹے سے سستی روٹی بیچنا ممکن نہیں۔صدر نان بائی ایسوسی ایشن نے وضاحت کی کہ ایک نان کے لیے تقریباً 120 سے 150 گرام آٹا استعمال ہوتا ہے جس کی لاگت میں 2.5 سے 3 روپے کا اضافہ ہو چکا ہے، جبکہ عام روٹی کے لیے درکار 80 سے 100 گرام آٹے کی قیمت میں 1.5 سے 2 روپے کا فرق آیا ہے۔

عوام کے لیے مزید مہنگائی کا خطرہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر گندم اور آٹے کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہا تو صرف روٹی ہی نہیں بلکہ دیگر اشیائے خورونوش بھی مہنگی ہو سکتی ہیں۔عوام پہلے ہی مہنگائی سے پریشان ہیں اور روٹی جیسی بنیادی ضرورت کی قیمت میں اضافہ ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کرے گا۔

Scroll to Top