افغان مہاجرین کی حالت زار پر خاموشی نہیں برتی جا سکتی، کابل کو فوری کردار ادا کرنا چاہیے، سردار بابک

پشاور ( پختون ڈیجیٹل ) عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما سردار حسین بابک نے موجودہ سیلابی صورتحال، افغان مہاجرین کے ساتھ سلوک اور جمہوری عمل کی رکاوٹوں پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔

انہوں نے پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں سب کچھ تباہ ہو چکا ہے۔

لوگ اپنے گھر، روزگار، فصلیں اور کاروبار سب کچھ کھو بیٹھے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام اور فلاحی تنظیمیں دل و جان سے مدد کر رہی ہیں، لیکن صوبائی حکومت منظرنامے سے غائب ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ایک صفحے پر آ کر فوری اقدامات کرنے ہوں گے، کیونکہ انفراسٹرکچر کی بحالی میں وقت لگے گا اور اس وقت بجلی کی بحالی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

سردار بابک نے مزید کہا کہ ان متاثرین کو راشن یا کپڑوں سے زیادہ مالی امداد کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنی زندگی باوقار طریقے سے خود دوبارہ شروع کر سکیں۔ اُنہوں نے مخیر حضرات اور تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ صرف خیرات نہیں، بلکہ متاثرین کی خودداری بچانے کے لیے مالی تعاون کریں۔

یہ بھی پڑھیں : اورکزئی بھرتی اسکینڈل: اسمبلی فلور پر ڈی ایچ او کی بے ضابطگیوں کا پول کھل گیا

افغان مہاجرین سے متعلق سوال پر سردار حسین بابک نے کہا کہ وہ یہاں چالیس سال سے مقیم ہیں، ان کی نسلیں یہیں پیدا ہوئیں اور پرورش پائی۔ ان کا روزگار بھی اسی سرزمین سے وابستہ ہے۔ جس بے دردی سے انہیں نکالا جا رہا ہے، ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ افغان حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے لیے انتظامات کرے اور پاکستان و ایران سے بات کرے تاکہ انہیں سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

آخر میں انہوں نے جمہوری عمل سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ مخصوص نشستوں پر منتخب اراکین کی خلف برداری کا عمل کئی بار ملتوی ہوا، لیکن اب وہ آئینی و قانونی طور پر اسمبلی کے رکن بن چکے ہیں۔

انہوں نے سینٹ کے انتخابات میں بھی حصہ لیا، اس لیے اب ضروری ہے کہ ان سے حلف لیا جائے تاکہ وہ اسمبلی میں اپنی ذمہ داریاں ادا کر سکیں اور جمہوری نظام مضبوط ہو۔

Scroll to Top