شاہد جان
پشاور: ممبر صوبائی اسمبلی اورنگزیب خان نے خیبر پختونخوا اسمبلی کے فلور پر سخت الفاظ میں ضلع کرم اور وزیرستان کی سابقہ ڈیوٹی کرنے والے ڈی ایچ او عنایت الرحمان پر بھرتیوں میں کرپشن اور رشوت خوری کے سنگین الزامات عائد کیے گئے
ہیں۔
ممبر صوبائی اسمبلی اورنگزیب خان مطابق 72 ٹیکنیشن کی آسامیاں مخصوص کی گئیں جن میں صرف 33 فیصد میرٹ لوکل آبادی کے لیے مختص تھی۔
اس دوران وکلاء نے الزام عائد کیا کہ عنایت الرحمان نے لوکل آبادی کو دھوکہ دیتے ہوئے انٹرویوز کے دوران امیدواروں سے رشوت طلب کی۔
اورنگزیب خان دعویٰ کیا کہ ڈی ایچ او نے اپنے پی ایس ڈاکٹر ناصر کو بھی اس کرپشن میں شامل کیا تاکہ رشوت وصولی کا سلسلہ جاری رکھا جا سکے۔
احتجاج کے دوران ڈی سی نے لوکل لوگوں کو یقین دلایا کہ بھرتیاں مقامی افراد کو دی جائیں گی، لیکن ان وعدوں کے باوجود بھرتیوں کے عمل میں بدعنوانی سامنے آئی۔
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ نے فوری طور پر بھرتیوں کو روک دیا اور فضل شکور اور عمرزئی کی صدارت میں ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے رشوت خوری کے تمام شواہد اکٹھے کیے۔
یہ بھی پڑھیں : حماد اظہر کا سیاست سے وقتی کنارہ کشی، این اے 129 کا الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ
انہوں نے کہا کہ باوجود اس کے ڈی ایچ او نے کمیٹی کی سفارشات اور وزیراعلیٰ کے حکم کے باوجود غیر قانونی طور پر بھرتیوں کی لسٹ 18 جولائی کو اپلوڈ کر دی اور پرانے آرڈرز کو نئی تاریخ دے دی۔
اس واقعے نے صوبے میں بھرتیوں کے عمل میں بدعنوانی اور رشوت خوری کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔
مزید تحقیقات اور کارروائی جاری ہے، جبکہ عوام میں کرپشن کے خاتمے کے لیے سخت مؤقف اپنانے کا اعلان کیا گیا ہے۔





