پی ٹی آئی میں نئی ٹوٹ پھوٹ، راجہ سلمان اکرم مستعفی، سیکرٹری جنرل کیلئے نئی دوڑ شروع،کئی نام زیر غور

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میں قیادت کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ پارٹی کے اہم رہنما اور سیکرٹری جنرل بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا ہے، جس کے بعد نئے سیکرٹری جنرل کیلئے مشاورت کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے اور سردار لطیف کھوسہ اس دوڑ میں سرفہرست تصور کیے جا رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق راجہ سلمان اکرم، جنہوں نے پی ٹی آئی میں شمولیت کیلئے کروڑوں روپے کی وکالتی پریکٹس کو خیرباد کہا تھا، اب پارٹی سے علیحدگی اختیار کر چکے ہیں۔ ان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ سیاست کو خیر باد کہہ کر مکمل طور پر دوبارہ وکالت پر توجہ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

پارٹی ذرائع کے مطابق، بشریٰ بی بی کے مبینہ ہتک آمیز رویے اور علیمہ خان کی تلخ تنقید نے سلمان اکرم راجہ کو مایوسی سے دوچار کیا۔ علیمہ خان، جنہیں وہ ماضی میں قانونی معاونت فراہم کرتے رہے، کی طرف سے شدید تنقید کے بعد راجہ سلمان نے پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

پارٹی کے اندرونی حلقوں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی اس وقت شدید اندرونی خلفشار کا شکار ہے، اور اعلیٰ قیادت میں تقسیم واضح طور پر نظر آ رہی ہے۔ ایک طرف بشریٰ بی بی کی قیادت پر گرفت مضبوط کرنے کی کوششیں جاری ہیں، تو دوسری طرف علیمہ خان بھی اپنے اثرورسوخ کو بڑھا رہی ہیں۔

اسی دوران، حماد اظہر کی انتخابی دوڑ سے دستبرداری نے لاہور کے حلقہ NA-129 میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے لیے میدان ہموار کر دیا ہے۔ دریں اثنا، علیمہ خان کے بیٹوں کی گرفتاری پر جمائما گولڈ اسمتھ کی جانب سے کیا گیا ’’خوف زدہ‘‘ ٹوئٹ بھی سیاسی منظرنامے پر بحث کا باعث بن گیا ہے۔ اسی تناظر میں عمران خان کے بیٹوں کی پاکستان آمد کا باب بھی بند ہوتا نظر آ رہا ہے۔

معتبر ذرائع کے مطابق، راجہ سلمان اکرم کی علیحدگی نہ صرف پی ٹی آئی کے لیے بڑا دھچکہ ہے، بلکہ اس سے پارٹی میں جاری قیادت کی کشمکش اور گروپ بندی بھی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔

باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں پارٹی کے دیگر رہنماؤں کی جانب سے بھی فیصلے متوقع ہیں، اور پی ٹی آئی میں ٹوٹ پھوٹ کی رفتار میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

Scroll to Top