گوگل نے اپنے جدید اے آئی ویڈیو ایڈیٹنگ ٹول “گوگل وِڈز” کا اسٹینڈرڈ ورژن عام صارفین کے لیے بھی دستیاب کر دیا ہے، جو پہلے صرف گوگل ورک اسپیس اور اے آئی پلان کے ممبرز تک محدود تھا۔
گوگل وِڈز کا بنیادی مقصد صارفین کو جلد اور مؤثر طریقے سے ویڈیو پریزنٹیشنز تیار کرنے کی سہولت دینا ہے۔ اس ٹول میں مختلف ٹیمپلیٹس، اسٹوری بورڈنگ، خودکار تجویز کردہ مناظر، اسٹاک امیجز، اور بیک گراؤنڈ میوزک شامل ہے۔ اس کے علاوہ، 12 ایسے اے آئی اوتارز بھی شامل کیے گئے ہیں جو آواز اور چہرے کے تاثرات میں تبدیلی کی اہلیت رکھتے ہیں۔
گوگل کے مطابق، اب صارفین محض ایک اسکرپٹ داخل کرکے چند منٹوں میں پروفیشنل ویڈیوز تیار کر سکتے ہیں۔ یہ سہولت کاروباری افراد کے لیے خاص طور پر مددگار ہے جو تربیتی مواد، پروڈکٹ ڈیمو یا کسٹمر سپورٹ ویڈیوز بنانا چاہتے ہیں۔
اگرچہ بدھ کو جاری ہونے والے کچھ جدید اے آئی فیچرز مفت ورژن میں شامل نہیں کیے گئے، تاہم کمپنی نے عندیہ دیا ہے کہ آنے والے وقت میں یہ فیچرز ممکنہ طور پر عام صارفین کو بھی دستیاب ہوں گے۔
ایک اور اہم فیچر جو حال ہی میں شامل کیا گیا ہے، وہ یہ ہے کہ صارفین اپنی پروڈکٹ یا ذاتی تصاویر کو استعمال کرتے ہوئے 8 سیکنڈز تک کی مختصر ویڈیوز بھی بنا سکتے ہیں۔
گوگل کے پروڈکٹ ڈائریکٹر وشنو سواجی کا کہنا ہے کہ جہاں روایتی طریقے سے 10 منٹ کی ویڈیو بنانے میں مہینے اور لاکھوں روپے لگ سکتے ہیں، وہاں گوگل وِڈز کے ذریعے یہی کام گھنٹوں میں اور نہایت کم لاگت میں مکمل ہو سکتا ہے۔
گوگل کی اس پیشرفت کا مقصد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو کم وقت اور وسائل میں زیادہ پیداواری صلاحیت فراہم کرنا ہے۔





