اسلام آباد : پاکستان میں موجود افغان مہاجرین اپنے وطن واپس جا رہے ہیں، لیکن یہ واپسی آنسوؤں کے ساتھ ہے—ایسی کیفیت جو صرف ایک واضح اور قابلِ عمل ذمہ داری نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔
افغان صحافی احسان اللہ نے پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں کہا کہ مہاجرین اس بات پر خفا ہیں کہ حکومت نے انہیں واپسی کے لیے کوئی واضح ڈیڈلائن نہیں دی تھی۔
اگر واپسی خوشی میں ہوتی تو صورتحال ڈیڈلائن تک نہ پہنچتی۔ انہوں نے اس مسلسل ماہانہ مہلت کی پالیسی کو ذہنی پریشانی کا سبب قرار دیا۔
احسان اللہ نے بتایا کہ 14 اگست کو کچھ افغان نوجوان پاکستان کا قومی جھنڈا اٹھائے جشن منا رہے تھے، مگر حالیہ سخت پالیسیوں نے ان کی محبت پر سائے ڈال دیے ہیں۔
بعض نوجوان ایسے ہیں جو کبھی طورخم بارڈر کراس نہیں ہوئے کیونکہ انہیں واپس جانے کی ضرورت محسوس نہ ہوئی۔ تاہم ان دنوں انہیں خود بھی سمجھ نہیں آرہی کہ وہ کہاں جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : افغان خواتین کے تعلیم و ملازمت کے دروازے بند، زندہ رہنا ہی اولین ترجیح بن گئی، افغان صحافی
انہوں نے خبردار کیا کہ جن افغانوں کے پاس شناختی کارڈ (PoR یا ACC) ہیں، وہ بھی کسی دن بلاک ہو سکتے ہیں۔ اس لیے انہوں نے افغانوں سے اپیل کی ہے کہ آئندہ کے بارے میں سنجیدگی سے سوچیں—اگر پالیسی مزید سخت ہوئی تو انہیں واپس افغانستان بھیجا جا سکتا ہے۔
اسی دوران حکومت نے ستمبر تک افغان مہاجرین کو مزید وقت دینے کا اعلان کیا ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پچھلی دی گئی مدت ناکافی تھی اور اس کی وجہ سے معاشرتی و نفسیاتی مشکلات جنم لے رہی ہیں۔





