معروف امریکی جریدے ٹائم نے اپنی سالانہ ” TIME100 AI” فہرست جاری کر دی ہے جس میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والی بااثر شخصیات کو شامل کیا گیا ہے۔
فہرست میں ایلون مسک کو مصنوعی ذہانت کے میدان میں دوسرا سب سے بااثر فرد قرار دیا گیا ہے۔
ایلون مسک کا نام اس فہرست میں بادل محافظ کمپنی (کلاؤڈفلیئر) کے سربراہ میتھیو پرنس کے بعد جبکہ کھلا ذہن (اوپن اے آئی) کے سیم آلٹمین اور تصویری چپ ساز ادارہ (اینویڈیا) کے جینسن ہوانگ سے پہلے آیا ہے۔
ایلون مسک کی فہرست میں شمولیت ان کی مصنوعی ذہانت سے متعلق کمپنی ایکس اے آئی کی غیر معمولی کامیابیوں کے باعث ممکن ہوئی۔
صرف 122 دنوں میں کمپنی نے امریکی شہر میمفس میں واقع ایک متروکہ الیکٹرو لکس کارخانے کو دنیا کے سب سے بڑے اعلیٰ درجے کے حسابی نظام (سپر کمپیوٹر) “بہت بڑا” (کولوسس) میں تبدیل کر دیا، ٹائم جریدے کے مطابق یہ سہولت اب دو لاکھ تصویری چپس (200,000 اینویڈیا جی پی یوز) پر مشتمل ہے۔
رواں سال ایکس اے آئی نے فروری میں گروک تھری اور جولائی میں گروک فور متعارف کرایا، مسک نے گروک فور کو “دنیا کا سب سے ذہین مصنوعی ذہانت کا نظام” قرار دیا ہے۔
ان کا دعویٰ ہے کہ یہ نظام پی ایچ ڈی سطح کے سائنسی امتحانات میں جامعات کے طلبہ سے بہتر کارکردگی دکھا چکا ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ یہ بعض اوقات عام فہم کی کمی کا شکار ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی ’رائٹنگ ہیلپ‘ فیچر متعارف، اب واٹس ایپ خود لکھے گا
گروک کو ایلون مسک کے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس اور ٹیسلا گاڑیوں کے جدید سافٹ ویئر میں بھی ضم کر دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت گروک کے ماہانہ فعال صارفین کی تعداد ساڑھے تین کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے تاہم یہ اب بھی چیٹ جی پی ٹی اور گوگل جیمینی جیسے مقابل نظاموں سے پیچھے ہے





