عوامی نیشنل پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی نثار باز خان نے افغانستان سے میڈیکل ڈگری (MD) حاصل کرنے والے پاکستانی طلبہ کی پریکٹس پر پابندی سے متعلق پی ایم ڈی سی کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ سیاسی اور سفارتی تبدیلیوں کا خمیازہ طلبہ کو بھگتنا پڑ رہا ہےجو کہ سراسر غیر منصفانہ ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب طلبہ نے تمام قانونی تقاضے پورے کر کے داخلے لیے تھے تو حکومت، پی ایم ڈی سی اور دیگر متعلقہ اداروں نے وقت پر واضح پالیسی اور رہنمائی کیوں فراہم نہیں کی؟
ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے افغانستان میں زیرتعلیم ہزاروں میڈیکل طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے جن میں اکثریت پختون اور بلوچ طلبہ کی ہے۔
نثار باز خان نے کہا کہ ریگولیٹری اداروں کا بنیادی کام راستے بند کرنا نہیں بلکہ نظام کو بہتر بنانا اور انصاف فراہم کرنا ہوتا ہے۔ طلبہ نے اداروں کی منظوری اور اس وقت کے قوانین پر اعتماد کرتے ہوئے اپنی زندگی کے قیمتی سال، محنت اور مالی وسائل صرف کیے، لہٰذا اچانک ایسے فیصلے صادر کرنا انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : افغانستان سے فارغ التحصیل میڈیکل گریجویٹس پاکستان میں پریکٹس کے اہل نہیں ہوں گے: پی ایم ڈی سی
اے این پی رہنما کا مزید کہنا تھا کہ ریاست پاکستان افغانستان کے ساتھ اپنے کشیدہ سیاسی تعلقات کا بدلہ طلبہ سے نہ لے۔ وفاقی حکومت اور پی ایم ڈی سی فوری طور پر اس فیصلے پر نظرِثانی کریں اور متاثرہ طلبہ کے لیے شفاف اور منصفانہ عبوری طریقہ کار سمیت اہلیت کے امتحانات متعارف کرائیں۔ عوامی نیشنل پارٹی متاثرہ طلبہ کے ساتھ کسی بھی قسم کی ناانصافی کو قبول نہیں کرے گی۔





