خیبرپختونخوا کے ضلع بونیر میں شدید بارشوں کے بعد سیلابی ریلوں نے تباہی مچا دی۔ پیر بابا کے مختلف علاقوں میں ندی نالوں میں طغیانی کے باعث پانی گھروں میں داخل ہوگیا، جبکہ مقامی آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے مساجد سے اعلانات کیے جا رہے ہیں۔
ضلعی انتظامیہ نے فوری طور پر ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں کی جانب روانہ کر دی ہیں، جبکہ سیلابی ریلوں سے متعدد رابطہ سڑکیں بند ہو گئی ہیں، جس کے باعث امدادی سرگرمیوں میں بھی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ شدید بارشوں کے نتیجے میں کھڑی فصلوں اور باغات کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
ڈپٹی کمشنر بونیر، کاشف قیوم نے میڈیا کو بتایا کہ ضلع بھر میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق، بٹئی اور قدر نگر میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے اور تیزی سے پیر بابا خورد کی جانب بڑھ رہی ہے۔ سیلابی پانی اب مرکزی بازار کے عقب اور سڑکوں کی سطح تک پہنچ چکا ہے۔
ڈی سی بونیر نے کہا کہ عوام کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے مساجد سے بار بار اعلانات کیے جا رہے ہیں، جبکہ انتظامیہ کی جانب سے محفوظ مقامات کی نشاندہی کر دی گئی ہے۔ اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے تو متاثرین کو سرکاری رہائش گاہوں میں پناہ فراہم کی جائے گی۔
ادھر مالاکنڈ کے علاقوں بٹ خیلہ، الہ ڈھنڈ ڈھیری اور گردونواح میں بھی گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارش ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے اور مزید طغیانی کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (NDMA) نے 3 ستمبر تک ملک کے مختلف علاقوں میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے سیلاب کا الرٹ جاری کیا ہے۔ ادارے کے مطابق، نشیبی علاقوں کے زیرِ آب آنے، پشتوں میں شگاف پڑنے، فصلوں اور بستیوں کو نقصان پہنچنے کے واضح امکانات موجود ہیں۔
انتظامیہ کی جانب سے عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر محفوظ مقامات کی طرف فوری نقل مکانی کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ریسکیو حکام یا مقامی انتظامیہ سے رابطہ کریں۔





