حکومت پاکستان کی جانب سے پی او آر کارڈ رکھنے والے افغان باشندوں کو رضاکارانہ طور پر ملک چھوڑنے کی دی گئی مہلت ختم ہو چکی ہے، جس کے ساتھ ہی غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی واپسی کا عمل تیزی سے جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق، اسلام آباد سے اب تک مجموعی طور پر 16 ہزار 400 افغان شہریوں کو ملک بدر کیا جا چکا ہے۔ یہ کارروائی ان افغان باشندوں کے خلاف کی جا رہی ہے جن کے پاس قانونی ویزا موجود نہیں یا جن کے ویزوں کی معیاد ختم ہو چکی ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ میڈیکل اور اسٹڈی ویزا رکھنے والے افغان شہریوں کے ساتھ نرمی برتی جا رہی ہے اور ایسے افراد کو ملک بدر کرنے کے بجائے قیام کی اجازت دی جا رہی ہے۔ حکومتی پالیسی کے تحت ایسے افغان شہری جو قانونی ویزا پر موجود ہیں، انہیں ملک بدری سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ جن افغان باشندوں کے ویزے کی مدت ختم ہو چکی ہے، انہیں واپسی کے عمل میں سہولت اور معاونت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ ان کی واپسی باعزت اور محفوظ طریقے سے ممکن ہو۔
یاد رہے کہ پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کی واپسی کا یہ عمل مرحلہ وار اور قانونی طریقہ کار کے تحت جاری ہے، جس میں انسانی ہمدردی کے پہلوؤں کو بھی مدنظر رکھا جا رہا ہے۔





