غزہ / مغربی کنارہ:غزہ میں اسرائیلی فوج کی وحشیانہ کارروائیاں شدت اختیار کر گئیں، جہاں گزشتہ روز صبح سے جاری بمباری اور حملوں میں مزید 65 فلسطینی شہید ہو گئے۔
عرب میڈیا کے مطابق شہداء میں ایک ہی خاندان کے 14 افراد شامل ہیں، جن کے گھر کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔
صیہونی فوج نے غزہ کے مختلف علاقوں میں دو مکانات مکمل طور پر تباہ کر دیے، جب کہ شاتی پناہ گزین کیمپ میں قائم ایک اسکول پر بھی حملہ کیا گیا۔ یہ اسکول بے گھر فلسطینیوں کے لیے عارضی پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہو رہا تھا۔
مسلسل بمباری اور حملوں کے باعث غزہ میں شہداء کی مجموعی تعداد 64,756 تک جا پہنچی ہے، جب کہ زخمیوں کی تعداد 164,059 ہو چکی ہے۔ علاقے میں اسپتالوں اور طبی مراکز پر شدید دباؤ ہے اور طبی سہولیات کی کمی کے باعث زخمیوں کو بروقت امداد دینا مشکل ہو چکا ہے۔
دوسری جانب مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی اسرائیلی فوج کی کارروائیاں جاری ہیں۔ صیہونی فورسز نے متعدد علاقوں میں غیر قانونی چھاپے مارے اور 1500 سے زائد فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا۔
ان گرفتاریوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے تلکریم میں بڑے پیمانے پر ہونے والی گرفتاریوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
حماس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ گرفتاریاں اجتماعی سزا کے مترادف ہیں اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ اسرائیل کی یہ کارروائیاں دراصل اس کی کمزور ہوتی گرفت اور علاقے پر کنٹرول کھونے کی علامت ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : لندن: پاکستانی ہائی کمشنر نے دفاعی نمائش میں پاکستان پویلین کا معائنہ کیا
غزہ اور مغربی کنارے میں جاری اسرائیلی بربریت کے باوجود عالمی برادری کی خاموشی پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
فلسطینی عوام کو مسلسل نشانہ بنانا انسانیت کے خلاف جرم ہے، جسے روکنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔
فلسطینی عوام نے اقوامِ متحدہ اور عالمی طاقتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی مظالم کے خلاف عملی اقدامات کریں اور بے گناہ شہریوں کی جانیں بچانے کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔





