پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے جنوبی وزیرستان میں غیر فعال بنیادی صحت مراکز (بی ایچ یوز) سے متعلق عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے
پشاور ہائیکورٹ میں دائر درخواست پر سماعت کے دوران چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ اور ایڈووکیٹ جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔
نجی ٹی وی چینل (دنیا نیوز)کے مطابق چیف جسٹس نے واضح الفاظ میں کہا کہیہ انتہائی افسوسناک ہے کہ عدالتی احکامات کے باوجود متعلقہ ادارے عملدرآمد نہیں کرا پا رہے۔ صوبے کے عوام پہلے ہی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، یہاں کے لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کریں، مشکلات نہیں۔
چیف جسٹس نے حکام کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کی ہدایات کو سنجیدگی سے لیا جائے، ورنہ سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
سماعت کے دوران چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ نے عدالت کو یقین دلایا کہ وہ ذاتی طور پر عدالتی احکامات پر عملدرآمد یقینی بنائیں گے اور اس حوالے سے ہفتہ وار رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے گی۔
عدالت نے چیف سیکریٹری کی یقین دہانی کو ریکارڈ کا حصہ بناتے ہوئے کیس کی سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی۔
خیبر پختونخوا خصوصاً جنوبی وزیرستان میں درجنوں بی ایچ یوز برسوں سے غیر فعال ہیں جس کے باعث مقامی آبادی بنیادی صحت کی سہولیات سے محروم ہے۔ عدالت کی جانب سے اس اہم انسانی مسئلے پر ازخود نوٹس اور سخت مؤقف کو علاقے میں بہت سراہا جا رہا ہے۔





