وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ تازہ رپورٹ کے مطابق ملک میں مہنگائی کی رفتار میں مسلسل دوسرے ہفتے کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق حالیہ ہفتے کے دوران مہنگائی کی مجموعی شرح میں 1.34 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، جبکہ اس سے پچھلے ہفتے بھی مہنگائی کی رفتار میں 0.2 فیصد کی کمی دیکھی گئی تھی۔ سالانہ بنیاد پر بھی مہنگائی کی شرح کم ہو کر 4.17 فیصد رہ گئی ہے، جو کہ گزشتہ ہفتے 5.03 فیصد تھی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ہفتے کے دوران 18 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ، 14 اشیاء کی قیمتوں میں کمی جبکہ 19 اشیاء کی قیمتیں مستحکم رہیں۔ مہنگی ہونے والی اشیاء میں چاول، انڈے، مٹن، بیف، جلانے والی لکڑی، ویجیٹیبل گھی، انرجی سیور اور دال مونگ شامل ہیں۔ چاول کی قیمت میں 0.84 فیصد، انڈوں میں 0.91 فیصد، بیف میں 0.42 فیصد، مٹن میں 0.31 فیصد، گھی میں 0.25 فیصد، انرجی سیور میں 0.23 فیصد اور دال مونگ کی قیمت میں 0.10 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل بھی 1.06 فیصد مہنگا ہوا۔
اس کے برعکس، 14 اشیاء کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی، جن میں پیاز، ٹماٹر، آٹا، کیلے، دال مسور، دال چنا، لہسن اور مرغی شامل ہیں۔ پیاز 1.17 فیصد، ٹماٹر 23.11 فیصد، آٹا 2.60 فیصد، کیلے 5.07 فیصد، دال مسور 0.64 فیصد، دال چنا 0.47 فیصد، لہسن 0.46 فیصد اور مرغی 12.74 فیصد سستی ہوئی ہے۔
ادارے کی رپورٹ میں مختلف آمدنی والے طبقات کے لیے مہنگائی کی رفتار کا الگ الگ جائزہ بھی پیش کیا گیا ہے۔ 17 ہزار 732 روپے ماہانہ آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی کی شرح میں 1.43 فیصد کمی کے بعد 3.82 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح 17 ہزار 733 سے 22 ہزار 888 روپے ماہانہ آمدنی والے افراد کے لیے مہنگائی کی رفتار میں 1.59 فیصد کمی کے بعد 4.02 فیصد، 22 ہزار 889 سے 29 ہزار 517 روپے آمدنی والے طبقے کے لیے 1.34 فیصد کمی کے بعد 4.89 فیصد، 29 ہزار 518 سے 44 ہزار 175 روپے آمدنی والے طبقے کے لیے 1.31 فیصد کمی کے بعد 4.97 فیصد اور 44 ہزار 176 روپے سے زائد آمدنی رکھنے والوں کے لیے مہنگائی کی شرح 1.23 فیصد کمی کے بعد 3.47 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان کا بھارت کیلئے فضائی حدود مزید ایک ماہ بند رکھنے کا فیصلہ
رپورٹ میں مہنگائی کے اعداد و شمار حساس قیمتوں کے اعشاریے (SPI) کی بنیاد پر جاری کیے گئے ہیں، جو ہفتہ وار بنیاد پر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ردوبدل کا جائزہ لیتے ہیں۔ وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق مستقبل قریب میں بھی قیمتوں میں استحکام کی توقع کی جا رہی ہے، تاہم اشیائے خوردونوش کی بعض اقسام کی قیمتوں میں معمولی اتار چڑھاؤ برقرار رہ سکتا ہے۔





