پیرس، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور پرتگال کے بعد فرانس نے بھی فلسطین کو ایک خود مختار ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
یہ اعلان فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے اقوام متحدہ کی ایک کانفرنس میں کیا، جہاں انہوں نے غزہ میں جاری جنگ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
صدر میکرون نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم مزید انتظار نہیں کر سکتے، اب وقت آ گیا ہے کہ اس جنگ کو مکمل طور پر ختم کیا جائے۔انہوں نے حماس کے زیرِ حراست 48 فلسطینی مغویوں کی فوری رہائی کا بھی مطالبہ کیا۔
فرانسیسی صدر نے دیگر ممالک کا بھی ذکر کیا جنہوں نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا ہے، جن میں اندورا، آسٹریلیا، بیلجیم، لکسمبرگ، مالٹا، مراکش، برطانیہ، کینیڈا اور سان مارینو شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ ممالک جولائی میں امن کے قیام کے لیے ایک ذمہ دارانہ اور ضروری راستہ اپنانے کے حق میں فیصلہ کر چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : مراد سعید اپنی ہی حکومت پر برس پڑے: بس بہت ہو چکا، اگر بے بس ہیں تو قوم کو سچ بتائیں، قوم سے غداری نہ کریں
صدر میکرون نے واضح کیا کہ فلسطینیوں کو ان کے حقوق دینے کا مطلب اسرائیلی حقوق کا خاتمہ نہیں، بلکہ عالمی برادری کو فوری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے کیونکہ دنیا امن کے ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے اور اگر یہ موقع ضائع ہوگیا تو کبھی واپس نہیں آئے گا۔
انہوں نے دو ریاستی حل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پائیدار امن صرف تب ممکن ہے جب اسرائیل اور فلسطین دو خود مختار ریاستوں کے طور پر ایک ساتھ زندہ رہیں۔





