بھارت کی شمال مشرقی ریاست منی پور میں مودی حکومت کے خلاف مسلح مزاحمت میں خطرناک حد تک تیزی آ گئی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ریاست میں قابض بھارتی فورسز کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے، جب کہ نوجوان بڑی تعداد میں مزاحمتی صفوں میں شامل ہو رہے ہیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق منی پور کے علاقے نمبول کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے بھارتی فورس 33 آسام رائفلز کے قافلے پر بڑا حملہ کیا ہے۔ مسلح افراد نے گھات لگا کر ہائی وے پر قافلے کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک اور کئی شدید زخمی ہو گئے۔
بتایا گیا ہے کہ آسام رائفلز کا دستہ پٹسوئی آپریٹنگ بیس سے نمبول آپریٹنگ بیس کی جانب روانہ تھا کہ راستے میں اچانک حملے کا نشانہ بنا۔ تاحال کسی عسکری تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم علاقے میں سیکیورٹی فورسز نے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
بھارتی فوج کی جانب سے نمبول اور ملحقہ علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں اور حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔ اس واقعے نے بھارتی فوج کے ان سیکیورٹی دعوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے جن میں منی پور میں حالات کو ’’قابو میں‘‘ بتایا جا رہا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ منی پور میں آزادی کے لیے جاری تحریک ایک بار پھر زور پکڑ چکی ہے۔ مقامی نوجوانوں نے حالیہ واقعات کے ذریعے واضح کر دیا ہے کہ وہ جبر اور فوجی تسلط کے خلاف آخری حد تک جانے کے لیے تیار ہیں۔
منی پور میں بڑھتی ہوئی مزاحمت نئی دہلی کے لیے ایک چیلنج بنتی جا رہی ہے، اور بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ ریاست اب مرکزی حکومت کے کنٹرول سے باہر نکلتی جا رہی ہے۔





