پشاور ہائیکورٹ! پاکستانی خواتین سے شادیاں کرنیوالے افغانوں کو ڈی پورٹ نہ کرنے کا حکم

پشاور ہائیکورٹ نے ایک اہم فیصلہ دیتے ہوئے پاکستانی خواتین سے شادی کرنے والے افغان شہریوں کو ملک سے نکالنے (ڈی پورٹ) سے روک دیا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ نادرا کو پاکستانی خواتین کی جانب سے افغان شوہروں کی شہریت کی درخواستوں کو قانونی طور پر مکمل طور پر دیکھنا ہوگا اور جب تک اس حوالے سے حتمی فیصلہ نہ ہو، ان افراد کو ملک سے نکالا نہیں جائے گا۔

عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں واضح کیا کہ اگر درخواست گزار خاتون کا شوہر افغان شہری ہے اور اس نے پاکستان اوریجن کارڈ (POC) کے لیے درخواست دی ہے، تو نادرا کو اس درخواست کا جلد از جلد جائزہ لینا ہوگا۔ عدالت نے نادرا کی جانب سے درخواست کی منظوری میں تاخیر پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔

یہ فیصلہ پچھلے سال 1 دسمبر 2023 کو دیے گئے نورین مسعود بنام سرکار کیس کی روشنی میں دیا گیا، جس میں عدالت نے واضح کیا تھا کہ اگر میاں بیوی میں سے کوئی ایک پاکستانی شہری ہو تو بچوں کی رجسٹریشن سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

پشاور ہائیکورٹ نے حکم دیا ہے کہ اس کیس کو بھی نورین مسعود کیس کے فیصلے کی روشنی میں نمٹایا جائے اور جب تک نادرا کا قانونی فیصلہ نہ آ جائے، متعلقہ افغان شہریوں کو ڈی پورٹ نہ کیا جائے۔

یہ حکم پاکستانی خواتین کے حقوق کا تحفظ اور افغان شوہروں کی قانونی حیثیت کو یقینی بنانے کی کوشش ہے تاکہ قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے کوئی ناانصافی نہ ہو۔

Scroll to Top