شمالی وزیرستان: پولیس نے جبری شادی کی کوشش ناکام بنا دی،مرکزی ملزم گرفتار

شمالی وزیرستان کی تحصیل غلام خان کے علاقے دیوگر سیدگی سے تعلق رکھنے والی 12 اور 14 سالہ دو بچیوں کو افغانستان منتقل کرنے کی کوشش کو پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا۔

یہ کارروائی ضلعی پولیس سربراہ وقار احمد (پی ایس پی) کی ہدایت پر عمل میں لائی گئی۔

پولیس کے مطابق فغان شہری کے ذریعے طورخم بارڈر پر بچیوں کو لے جانے کی سازش کی گئی تھی جس کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے فوری طور پر مداخلت کی اور بچیوں کو بازیاب کرا لیا۔

مزید تحقیقات میں معلوم ہوا کہ تقریباً 15 سال پہلے بچیوں کے والد مرحوم نے افغانستان کے تانائی علاقے میں ایک خاتون سے شادی کی تھی، جس سے ایک طویل عرصے سے تنازعہ چلا آ رہا تھا۔ مقامی جرگے نے تنازعہ ختم کرنے کے لیے بچیوں کو افغانستان میں شادی کے لیے دینے کا فیصلہ کیا، جسے اہل خانہ نے مجبوری کے تحت قبول کیا تھا۔ متاثرہ بچیاں والد کی پہلی شادی سے تعلق رکھتی ہیں۔

پولیس نے مقدمہ درج کر کے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ ایس ایچ او غلام خان رقیب خان اور تفتیشی ٹیم کیس کی مزید جانچ کر رہی ہے۔

ڈی پی او وقار احمد نے کہا کہ بچوں اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا اور غیر قانونی رسم و رواج کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی جاری رکھی جائے گی۔

Scroll to Top