ایران نے جرمنی، فرانس اور برطانیہ سے اپنے سفیر واپس بلا لیے

ایران نے جرمنی، فرانس اور برطانیہ میں تعینات اپنے سفیر فوری طور پر واپس بلا لیے۔

فرانسیسی خبررساں ادارےکے مطابق ایران نے ہفتے کے روز جرمنی، فرانس اور برطانیہ میں تعینات اپنے سفیروں کو اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ نافذ کرنے کے تنازع کے سلسلے میں مشاورت کے لیے واپس بلا لیا ہے۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی مہر کے مطابق تہران نے ای تھری کی جانب سے پابندیوں کے نفاذ کے چند گھنٹے قبل اپنے پہلے عملی اقدام کے طور پر جرمنی، فرانس اور برطانیہ میں اپنے سفیروں کو مشاورت کے لیے طلب کیا، یہ اقدام اس احتجاج کے طور پر کیا گیا کہ ان ممالک نے ’’ٹرگر میکانزم‘‘ کا عمل شروع کیا ہے۔

یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب روس اور چین کی جانب سے ایران پر بین الاقوامی پابندیوں کی بحالی کو مؤخر کرنے کی کوشش جمعہ کے روزناکام ہو گئی۔

تہران نے سہ ملکی یورپی گروپ ای تھری کے ذریعے ٹرگر میکانزم کے فعال ہونے کو غیر ذمہ دارانہ اور ظالمانہ فیصلہ قرار دیا ہے۔

اس سے قبل تہران نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے ساتھ تعاون معطل کرنے کی دھمکی بھی دی تھی۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے حالیہ دنوں میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک میں موجودگی کے دوران یورپی ممالک کے ساتھ تفصیلی بات چیت کی، خاص طور پر فرانسیسی وفد کے ساتھ مگر یہ مذاکرات کسی نتیجے تک نہ پہنچ سکے۔

یورپی سفارتکاروں نے ایران کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو غیر سنجیدہ پیشکش قرار دیا۔

Scroll to Top