قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا نے بھارت کے خلاف فائنل سے ایک روز قبل پریس کانفرنس سے خطاب میں اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان شاء اللہ کل پاکستان فتح حاصل کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹیم کی پوری کوشش ہوگی کہ میدان میں بہترین کھیل پیش کریں۔
انہوں نے نوجوان بلے باز صائم ایوب کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئندہ 10 سال تک قومی ٹیم کے لیے کارآمد ثابت ہو سکتے ہیں۔
سلمان آغا کے مطابق صائم نے فیلڈنگ اور بولنگ دونوں میں عمدہ کارکردگی دکھائی ہے، اور امید ہے کہ وہ فائنل میں بیٹنگ کے شعبے میں بھی شاندار کارکردگی پیش کریں گے۔
سلمان آغا کا کہنا تھا کہ میدان سے باہر کے معاملات ان کے کنٹرول میں نہیں ہوتے، اس لیے میڈیا یا دوسروں کی باتوں پر دھیان نہیں دیتے۔ ان کا فوکس صرف ایشیا کپ جیتنے پر ہے۔
پاک بھارت میچ کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ کبھی ایسا نہیں دیکھا کہ دونوں ٹیموں کے درمیان مصافحہ نہ ہوا ہو، نہ ہی ان کے والد نے ماضی میں ایسی کسی روایت کی نشاندہی کی۔ ان کے مطابق ہینڈ شیک نہ ہونا کھیل کی روح کے خلاف ہے۔
اسپنرز پر انحصار سے متعلق سوال پر کپتان نے وضاحت کی کہ چونکہ حالیہ میچز میں اسپنرز کو زیادہ سازگار حالات میسر آئے اس لیے ٹیم نے اسپن بولنگ کو ترجیح دی۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی کھلاڑی میدان میں جارحانہ رویہ دکھاتا ہے تو یہ فطری بات ہے، خاص طور پر فاسٹ بولرز کے لیے۔ بس ضروری ہے کہ جذبات کا اظہار دوسروں کی توہین کے بغیر ہو۔
اپنی ذاتی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے کپتان نے اعتراف کیا کہ ان کی پرفارمنس توقعات کے مطابق نہیں رہی، تاہم وہ بہتری کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل کامیابی ٹیم کی ضرورت کے مطابق کھیلنے میں ہے۔ وکٹ دیکھ کر ہی حتمی الیون کا فیصلہ کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ کا دباؤ ہمیشہ رہتا ہے۔ ہم سے غلطیاں ہوئیں اسی وجہ سے پچھلا میچ ہارے۔ جو ٹیم کم غلطیاں کرے گی جیت اسی کی ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں :ایران نے جرمنی، فرانس اور برطانیہ سے اپنے سفیر واپس بلا لیے
بھارتی میڈیا کے بیانات سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ انہیں ان باتوں کی پرواہ نہیں، ٹیم صرف اپنی کارکردگی پر توجہ دے رہی ہے۔





