پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کی واپسی کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں کے دوران متعدد غیر قانونی افغان شہریوں کو حراست میں لے کر قانونی تقاضے مکمل کرنے کے بعد باعزت طور پر افغانستان روانہ کر دیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق واپسی کے موقع پر کئی افغان مہاجرین نے پاکستانی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔ طورخم بارڈر پر موجود ایک افغان شہری بہادر خان نے رخصت ہوتے وقت جذباتی انداز میں کہا’’اگر میں پاکستان میں مزید 50 سال بھی رہتا، تو ایک دن واپس جانا ہی تھا میں ایک دن ویزہ لے کر ضرور واپس آؤں گا۔
مہاجرین کی واپسی کے عمل کے دوران لنڈی کوتل میں قائم افغان ٹرانزٹ کیمپ میں ان کی بائیو میٹرک تصدیق اور ڈیٹا اندراج کیا جا رہا ہے، تاکہ ہر شخص کی شناخت محفوظ طریقے سے ریکارڈ کی جا سکے۔
وزارت داخلہ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، ستمبر 2023 سے اب تک تقریباً 10 لاکھ افغان مہاجرین اپنے وطن واپس جا چکے ہیں، جن میں سے 6 لاکھ سے زائد افراد صرف طورخم بارڈر کے راستے افغانستان گئے۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ عمل نہ صرف ملکی قوانین پر عمل درآمد کے لیے ضروری ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی احترام اور تعاون کو بھی فروغ دیتا ہے۔





