پشاور ہائیکوٹ نےمحکمہ صحت کو دو سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری/آؤٹ سورسنگ سے روک دیا

پشاور: پشاور ہائیکورٹ میں خیبر پختونخوا کے کم کارکردگی دکھانے والے سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری اور آؤٹ سورسنگ کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ کیس کی سماعت جسٹس اعجاز انور اور جسٹس وقار احمد نے کی۔

سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل فضل مولا، درخواست گزاروں کے وکلاء امین الرحمن یوسفزئی اور سنگین خان ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔

عدالت نے محکمہ صحت کو دو سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری اور آؤٹ سورسنگ سے روک دیا اور آئندہ سماعت پر فریقین سے جواب طلب کر لیاجبکہ اس نوعیت کے دیگر مقدمات کو یکجا سننے کا بھی حکم دیا۔

درخواست گزار کے وکیل امین الرحمن یوسفزئی نے عدالت کو بتایا کہ لوندخوڑ (ٹائپ ڈی) اور تحت بھائی تحصیل ہسپتال کو آؤٹ سورس کرکے پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کیا جا رہا ہے۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل فضل مولا نے عدالت کو آگاہ کیا کہ سیکرٹری صحت ملک سے باہر ہیں اور کابینہ اجلاس کی وجہ سے دیگر افسران مصروف ہیں۔

جسٹس اعجاز انور نے سوال کیا کہ “ہم صرف یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ہسپتالوں کو کیوں آؤٹ سورس کیا جا رہا ہے؟”

وکیل صحت ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ آؤٹ سورس کا مقصد 24 گھنٹے خدمات کی فراہمی اور بہتری ہے۔

جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ “بہتری ایسی بھی لائی جا سکتی ہے اگر سیکرٹری اور ڈی جی ہیلتھ سخت ڈسپلن قائم کریں تو ہر کوئی کام کے لیے آئے گا۔”

وکیل صحت نے کہا کہ ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور اسٹاف اپنی ڈیوٹیاں انجام دے رہے ہیں۔

جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ “فاؤنڈیشن ایسا نہیں ہوتا، آپ جمعے یا ہفتے کو ہسپتال جائیں تو کوئی سینئر ڈاکٹر وہاں نظر نہیں آئے گا۔ آؤٹ سورس کا مطلب ہے کہ ہسپتال کسی ٹھیکیدار کو دیا جائے گا۔”

وکیل صحت فاؤنڈیشن نے کہا کہ “دنیا بھر میں ہسپتال آؤٹ سورس ہوتے ہیں۔”

جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ “دنیا میں سب سے مہنگا طبی علاج ہے، وہاں انشورنس نہیں ہے تو ایک دانت نکالنے پر بھی ہزاروں ڈالر خرچ ہوتے ہیں، وہاں سے لوگ پھر یہاں علاج کے لیے آتے ہیں۔”

وکیل صحت فاؤنڈیشن نے کہا کہ آئندہ سماعت پر تفصیلی جواب جمع کرائیں گے۔

عدالت نے حکم دیا کہ جواب جمع کرائیں اور تب تک ہسپتالوں کی آؤٹ سورسنگ پر مزید کارروائی نہ کی جائے۔

عدالت نے درخواستوں پر مزید سماعت 23 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔

Scroll to Top