پیکا ایکٹ کے تحت عمران ریاض، مصدق عباسی اور صدیق انجم کے وارنٹ گرفتاری جاری، عدالت میں پیش کرنے کا حکم

پیکا ایکٹ کے تحت عمران ریاض، مصدق عباسی اور صدیق انجم کے وارنٹ گرفتاری جاری، عدالت میں پیش کرنے کا حکم

اسلام آباد ہائیکورٹ نے مشیر برائے انٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ خیبرپختونخوا مصدق عباسی، ڈائریکٹر انٹی کرپشن صدیق انجم اور متنازع صحافی عمران ریاض کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمات درج کرتے ہوئے ان کی فوری گرفتاری کا حکم دیا ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینیئر جج محمد شاہ نے نام نہاد صحافی عمران ریاض، مصدق عباسی اور صدیق انجم کے خلاف مقدمات کا نوٹس لیتے ہوئے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں اور متعلقہ اداروں کو ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

ملک سے فرار نام نہاد صحافی عمران ریاض پر پیکا ایکٹ کی دفعات 109، 34، 505، 508(ii) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، جن کا تعلق اشتعال انگیز بیانات، دھمکی آمیز رویے اور جرائم کی سازش میں معاونت سے ہے۔ عمران ریاض پر الزام ہے کہ انہوں نے سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع استعمال کرتے ہوئے سرکاری افسران کے خلاف من گھڑت اور زہریلا پروپیگنڈا پھیلایا، جو پیکا قانون کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔

مصدق عباسی اور صدیق انجم کے خلاف بھی سنگین الزامات
اسی مقدمے میں خیبرپختونخوا کے مشیر برائے انٹی کرپشن مصدق عباسی کے خلاف بھی پیکا ایکٹ کی دفعات 109، 34، 505، 506(ii) کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ ان پر الزام ہے کہ وہ مذکورہ پروپیگنڈا مہم کی منصوبہ بندی اور معاونت میں شامل تھے۔

ڈائریکٹر انٹی کرپشن خیبرپختونخوا صدیق انجم کا نام بھی اسی مقدمے میں شامل کیا گیا ہے، تاہم ان کے خلاف الزامات کی نوعیت کے بارے میں مزید تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئیں۔

عدالت کا سخت موقف
عدالت نے ایف آئی آر پر کارروائی کرتے ہوئے تینوں افراد کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں اور متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فوری طور پر کارروائی کرنے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ اگر ملزمان قانون کے مطابق اپنی صفائی پیش کرنا چاہتے ہیں تو پہلے گرفتاری کے بعد قانونی تقاضے پورے کیے جائیں۔

قانونی ماہرین کی رائے
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پیکا ایکٹ کے تحت درج یہ مقدمہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے انتہائی سنجیدہ ہے، خاص طور پر جب اس میں سرکاری عہدیداران اور صحافی ملوث ہوں۔ اگر الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو ملزمان کو سخت سزائیں ہو سکتی ہیں، جن میں قید، جرمانہ یا دونوں شامل ہو سکتے ہیں۔

پیکا (Prevention of Electronic Crimes Act) 2016 کا اطلاق آن لائن ہراسانی، جعلی خبروں، سائبر بلیک میلنگ، اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال پر ہوتا ہے۔ حالیہ برسوں میں پیکا قانون کے تحت کئی نمایاں شخصیات کے خلاف کارروائی کی جا چکی ہے، تاہم یہ مقدمہ اس لیے خاص اہمیت رکھتا ہے کہ اس میں ایک حکومتی مشیر، ایک اعلیٰ افسر اور ایک میڈیا پرسن شامل ہیں۔

Scroll to Top