سرکاری اسکولوں کی نجکاری روکنے کے لیے پشاور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ

خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے کم کارکردگی دکھانے والے سرکاری اسکولوں کی نجکاری کے فیصلے پر پشاور ہائیکورٹ نے بڑا حکم جاری کرتے ہوئے متعلقہ اعلامیہ معطل کر دیا ہے۔

قومی اخبار (روزنامہ نوائے وقت ویب سائٹ)کے مطابق جسٹس نعیم انور اور جسٹس کامران حیات پر مشتمل دو رکنی بینچ نے معاملے کی سماعت کی، جس میں وکیل درخواست گزار محمد حمدان ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری سطح کے سرکاری اسکولوں کو آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو کہ آئین کی خلاف ورزی ہے۔

وکیل کا مؤقف
درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہاآئین پاکستان کے تحت 5 سے 16 سال تک کے بچوں کو مفت تعلیم فراہم کرنا حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے۔اسکولوں کی نجکاری سے اساتذہ کا سروس اسٹرکچر متاثر ہوگا۔آؤٹ سورسنگ کی پالیسی سے بچوں کی تعلیم کے معیار پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔صوبے کے اسکول پہلے ہی وسائل اور عملے کی کمی کا شکار ہیں، ایسے میں نجکاری مزید مسائل کو جنم دے سکتی ہے۔

عدالت کا فیصلہ
عدالت نے دلائل سننے کے بعد سرکاری اسکولوں کی نجکاری سے متعلق جاری اعلامیہ کو معطل کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کر دیے اور معاملے پر رپورٹ طلب کر لی ہے۔

پس منظر
خیبر پختونخوا حکومت نے حالیہ ہفتوں میں کم کارکردگی والے اسکولوں کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کی پالیسی کا اعلان کیا تھا، جس پر اساتذہ تنظیموں، والدین اور تعلیم سے وابستہ حلقوں کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا تھا۔

Scroll to Top