چیئرمین پاکستان علما کونسل علامہ طاہر محمود اشرفی نے افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کے حالیہ اشتعال انگیز بیان پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ’’ہم نہ سوویت یونین ہیں، نہ امریکا، نہ برطانیہ اور نہ نیٹو، ہم پاکستان ہیں۔‘‘
اپنے بیان میں طاہر اشرفی نے افغان وزیر خارجہ کی جانب سے بھارت میں بیٹھ کر پاکستان کو دی گئی دھمکیوں کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امیر خان متقی کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان نے نہ صرف افغانستان میں مداخلت سے ہمیشہ گریز کیا ہے بلکہ ہمیشہ برادر اسلامی ملک کی حمایت کی ہے۔
انہوں نے کہا’’ہم نہ آپ کے ملک پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں، نہ مداخلت ہمارا ایجنڈا ہے، ہم صرف اتنا چاہتے ہیں کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی بند کی جائے۔‘‘
طاہر اشرفی نے واضح کیا کہ پاکستانی افواج نے حالیہ واقعات میں جس طرح بھرپور جواب دیا، وہ محض ایک آغاز ہے۔ ان کے بقول، افغان طالبان کو بھارت کے ساتھ تعلقات سے پہلے پاکستان کے ساتھ تاریخی رشتوں اور سیکیورٹی حساسیت کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ افغان وزیر خارجہ کو بھارت میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف بیان بازی کرنے کے بجائے اپنے ملک کے مسائل پر توجہ دینی چاہیے، کیونکہ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کے استحکام کو اپنی ترجیح بنایا ہے۔
چیئرمین علما کونسل نے مزید کہا کہ افغان طالبان کو چاہیے کہ وہ پاکستان کے صبر کو کمزوری نہ سمجھیں، کیونکہ پاکستان نے ماضی میں بھی دہشت گردی کے خلاف قیمتیں چکائی ہیں اور آج بھی اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
طاہر اشرفی کے اس بیان کو سفارتی حلقوں میں پاکستان کے موقف کی مضبوطی اور داخلی سطح پر اتحاد کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب سرحدی کشیدگی ایک حساس موڑ پر ہے۔





