جرمنی کا افغان مہاجرین کی ملک بدری کا عمل تیز کرنے کا فیصلہ

جرمنی کا افغان مہاجرین کی ملک بدری کا عمل تیز کرنے کا فیصلہ

جرمن حکومت نے جرائم پیشہ افغان مہاجرین کی ملک بدری کے عمل کو تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیرِ داخلہ الیگزینڈر ڈوبرینڈٹ نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ کابل میں طالبان حکومت کے ساتھ افغان مجرموں کی واپسی کے حوالے سے مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے اور جلد ہی ایک باضابطہ معاہدہ طے پانے کی توقع ہے۔

نجی ٹی وی چینل (اے آر وائی)کے مطابق وزیر داخلہ نے بتایا کہ جرمنی طالبان حکومت کے ساتھ ایک ایسا معاہدہ حتمی شکل دینے کے قریب ہے جس کے تحت افغان مجرموں کی زیادہ باقاعدہ واپسی کے لیے پروازوں کا آغاز کیا جائے گا۔ یہ پروازیں صرف چارٹر فلائٹس تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ تجارتی پروازوں کے ذریعے بھی ملک بدری کا عمل ممکن بنایا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جرمن وزیر اعظم فریڈرِخ میرٹز نے اقتدار سنبھالتے ہی اعلان کیا تھا کہ جرائم میں ملوث افغان پناہ گزینوں کو تیزی سے ملک بدر کیا جائے گا۔ تاہم، یہ پالیسی متنازع ہے کیونکہ ہیمبرگ حکومت نے کابل میں طالبان حکومت کو باضابطہ تسلیم نہیں کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، جرمنی نے 2021 کے بعد سے اب تک صرف دو ملک بدری پروازیں کی ہیں، جن میں جولائی 2025 میں 81 افغان شہری اور گزشتہ سال 28 افراد کو واپس افغانستان بھیجا گیا۔ جرمن وزارت داخلہ کے مطابق، گزشتہ ہفتے کابل میں طالبان حکام کے ساتھ ’تکنیکی مذاکرات‘ بھی ہوئے تاکہ آئندہ پروازوں کے لیے عملی انتظامات طے کیے جا سکیں۔

وزیر داخلہ ڈوبرینڈٹ نے انٹرویو میں کہا کہ وہ اس ملک بدری کے عمل کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے اور ضرورت پڑنے پر خود کابل جانے کے لیے بھی تیار ہیں۔

Scroll to Top