کابل: افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے واضح کیا ہے کہ افغانستان خطے اور دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ آزاد اور خودمختار حیثیت میں تعلقات استوار کرنے کا خواہاں ہے، اور کسی بھی ملک کے اثر و رسوخ کو قبول نہیں کرتا۔
افغان میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ افغانستان نے ہمیشہ ایک خودمختار ریاست کے طور پر اپنی خارجہ پالیسی مرتب کی ہے، جو مکمل طور پر قومی مفادات پر مبنی ہے۔ انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ افغانستان کسی تیسرے ملک کے زیر اثر کام کرتا ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے بھارت کے ساتھ تعلقات مکمل طور پر آزاد ہیں اور ان کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تعلقات کبھی بھی پاکستان مخالف نہیں رہے اور نہ ہی ان کا مقصد کسی ملک کے خلاف اتحاد قائم کرنا ہے۔
ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ طالبان حکومت کی خارجہ پالیسی اس اصول پر قائم ہے کہ تمام ممالک کے ساتھ باہمی احترام، مساوات اور خودمختاری کی بنیاد پر تعلقات استوار کیے جائیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان کسی بھی بیرونی طاقت کا مہرہ نہیں بنے گا۔
یہ بھی پڑھیں : چیئرمین پی سی بی کا پاکستان ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے اعزاز میں عشائیہ
ان کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان چاہتا ہے کہ خطے میں استحکام، امن اور باہمی تعاون کی فضا قائم ہو، اور اسی سوچ کے تحت تمام ممالک سے تعلقات کو فروغ دیا جائے گا۔





