خیبرپختونخوا میں آٹا بحران، وفاقی وزیر امیر مقام نے معاملہ ایپکس کمیٹی میں اٹھا دیا

وفاقی وزیر امور کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران انجینئر امیر مقام نے خیبر پختونخوا میں جاری آٹا بحران کو سنگین مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاملہ ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں اٹھا دیا گیا ہے۔

سوات میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر امیر مقام کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو بھی صوبے میں آٹے کی قلت اور عوام کو درپیش مشکلات سے آگاہ کیا گیا ہے جس پر انہوں نے مسئلے کے جلد حل کی یقین دہانی کرائی ہے۔

امیر مقام نے کہا کہ آٹا بحران کی بنیادی وجہ افغانستان کو آٹے کی سمگلنگ ہے جس کے باعث خیبر پختونخوا میں سپلائی متاثر ہوئی ہے اور قلت پیدا ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بحیثیت عوامی نمائندہ وہ عوامی مسائل پر خاموش نہیں بیٹھ سکتے، ماضی میں بھی عوام کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی، آج بھی کر رہا ہوں اور آئندہ بھی کرتا رہوں گا۔

وفاقی وزیر نے صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے آٹا بحران کے حوالے سے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبائی حکومت فوری طور پر سرکاری گوداموں میں موجود گندم ریلیز کرے تاکہ بحران پر قابو پایا جا سکے اور عوام کو ریلیف مل سکے۔

انجینئر امیر مقام نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کو آٹا ڈیلرز اور ٹرک مالکان سے وصول کی جانے والی اضافی رقوم سے بھی آگاہ کیا ہے جس پر مریم نواز نے فوری اقدامات کی یقین دہانی کرائی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پشاور میں آٹا پھر مہنگا ، 20 کلو کا تھیلا 2800 روپے کا ہو گیا

وفاقی وزیر امیر مقام نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت اس مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ ہے اور اب صوبائی حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی سطح پر فوری اقدامات کرے۔

Scroll to Top