وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطح اجلاس میں حکومت نے گندم پالیسی 2025-26 کی منظوری دے دی۔
نئی پالیسی کے تحت گندم کی بین الصوبائی نقل و حرکت پر کوئی پابندی نہیں ہوگی جبکہ کسانوں کو ان کی پیداوار کے لیے مناسب اور منافع بخش قیمت فراہم کی جائے گی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں مجموعی طور پر 6.2 ملین ٹن گندم خریدیں گی، خریداری کے لیے فی من قیمت 3500 روپے مقرر کی گئی ہے جبکہ بین الاقوامی قیمتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نرخوں کا تعین کیا جائے گا تاکہ کسانوں اور صارفین دونوں کا مفاد محفوظ رہے۔
وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسان ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور ان کے مفادات کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
وزیراعظم شہبازشریف نے مزید کہا کہ گندم پالیسی کا مقصد زرعی ترقی، غذائی تحفظ کو فروغ دینا اور کسانوں کو درپیش مشکلات کا حل فراہم کرنا ہے۔
گندم پالیسی کی تیاری میں تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی گئی، وزیراعظم نے اس عمل کو شفاف اور جامع قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں آٹا بحران، وفاقی وزیر امیر مقام نے معاملہ ایپکس کمیٹی میں اٹھا دیا
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ اس پالیسی پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے قائم کمیٹی کی صدارت کریں گے جو ہر ہفتے وزیراعظم کو براہ راست رپورٹ پیش کرے گی۔





