پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کرنے والے افغان باشندوں کے خلاف تحقیقات شروع

اسلام آباد: پاکستان میں افغان باشندوں کی جانب سے جعلی شناختی کارڈز حاصل کرنے کے خلاف کارروائیاں تیز ہو گئی ہیں۔

خیبرپختونخوا سمیت ملک کے مختلف حصوں میں افغان شہریوں کے پاکستانی شناختی کارڈز اور پاسپورٹس کے حوالے سے ازسرنو سخت تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پشاور، سوات، مہمند، باجوڑ، خیبر، نوشہرہ، چارسدہ اور ڈیرہ اسماعیل خان سمیت دیگر اضلاع میں فیملی ٹری کی بنیاد پر تحقیقات جاری ہیں۔

قانون نافذ کرنے والے ادارے ان افغان باشندوں کو قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ تصور کرتے ہوئے ان کی ملک بدری کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔

پشاور پولیس اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے مل کر جعلی یا دو نمبر شناختی کارڈز کے ذریعے بیرون ملک مقیم افغان باشندوں کے خلاف خفیہ تحقیقات شروع کر رکھی ہیں۔

اس دوران متعدد افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے، جن میں وہ عناصر بھی شامل ہیں جو پولیس پر الزامات لگا رہے تھے۔

تحقیقات کے نتیجے میں کئی افغان باشندوں کے شناختی کارڈز بلاک کیے جا چکے ہیں جبکہ ان کے سہولت کاروں کو بھی بے نقاب کیا جا رہا ہے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکے۔

یہ کارروائیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پاکستان میں قومی سلامتی کو خطرہ پہنچانے والوں کے خلاف سخت موقف اپنایا جا رہا ہے اور جعلی شناختی دستاویزات کی فراہمی روکنے کے لیے بھرپور اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : چمن بارڈر پر تجارتی ٹریفک بحال ہونے کی توقع، خالی گاڑیوں کی کلیئرنس کا عمل جاری

چمن، پاک افغان سرحد پر تجارتی سرگرمیوں میں جزوی بحالی دیکھنے کو ملی ہے، جہاں خالی گاڑیوں کو عبور کی اجازت دے دی گئی ہے۔

سرکاری حکام کے مطابق سرحد کے دونوں اطراف کئی دنوں سے پھنسے ہوئے ٹرک اور ٹریلرز آہستہ آہستہ پاکستان میں داخل ہو رہے ہیں۔

کسٹمز کے عمل کو معمول پر لانے اور خالی گاڑیوں کی کلیئرنس کے لیے اقدامات جاری ہیں۔

افغانستان کی جانب پھنسے ہوئے ڈرائیوروں نے راستہ کھلنے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور توقع ظاہر کی ہے کہ جلد ہی تجارتی ٹریفک بھی بحال ہو جائے گی۔

اسی دوران افغان مہاجرین کو لے جانے والے ٹرکوں کی افغانستان روانگی بھی بلا تعطل جاری ہے۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ واپسی کے عمل کو منظم انداز میں انجام دیا جا رہا ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی دباؤ کم کیا جا سکے اور تجارتی روابط کو مستحکم کیا جا سکے۔

Scroll to Top