محمود اچکزئی کی بیٹی کی سوشل میڈیا پوسٹ مہنگی پڑ گئی، یونیورسٹی کا نوٹس جاری

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی صاحبزادی تاتیرہ اچکزئی کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ تنازع کا باعث بن گئی ہے۔

16 اکتوبر کو ایکس پلیٹ فارم پر اپنی پوسٹ میں تاتیرہ نے پاکستان کو اسرائیل کا سستا ورژن قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ ملک کی ریاست مغربی دنیا کے ہاتھوں قابو میں ہے۔

ان کے اس بیان نے ریاست اور اس کے اداروں پر شدید تنقید کی۔

اس کے ایک دن بعد، 17 اکتوبر کو بلوچستان یونیورسٹی کی انتظامیہ نے تاتیرہ کو شوکاز نوٹس جاری کیا ہے۔

نوٹس کے مطابق ان کے اس بیان کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی اور سنگین بدانتظامی سمجھا گیا ہے۔

یونیورسٹی نے انہیں پانچ دن کے اندر تحریری وضاحت دینے کا مطالبہ کیا ہے، بصورت دیگر ان کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

یونیورسٹی کے رجسٹرار پروفیسر طارق جوگیزئی نے تصدیق کی کہ تاتیرہ کو نوٹس دیا گیا ہے،

یہ بھی پڑھیں : بھارت روسی تیل سے پیچھے ہٹنے لگا، ٹرمپ کا بیان سامنے آ گیا

جبکہ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ شوکاز نوٹس کے جواب میں اگر وضاحت نہ دی گئی یا انکار کیا گیا تو انکوائری آفیسر تعینات کیا جائے گا، جو خلاف ورزی ثابت ہونے پر سزا کا تعین کرسکتا ہے جس میں ملازمت سے برطرفی بھی شامل ہو سکتی ہے۔

سوشل میڈیا پر تاتیرہ اچکزئی کی پوسٹ پر صارفین کا ردعمل متنوع ہے، کچھ ان کے موقف کی حمایت کر رہے ہیں جبکہ دیگر شدید تنقید بھی کر رہے ہیں۔

اس واقعے نے نہ صرف بلوچستان یونیورسٹی بلکہ ملک بھر میں آزادی اظہار رائے اور ریاستی حدود کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

Scroll to Top