پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت بدستور بند، زمینی راستے 10 روز سے منقطع
پاکستان اور افغانستان کے درمیان زمینی تجارت 10 روز سے مکمل طور پر معطل ہے جس کے باعث طورخم، چمن، غلام خان اور انگور اڈا بارڈر پر ٹرکوں اور مال بردار گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں۔
دونوں ممالک کے تاجروں کو پھل اور سبزیوں کی بربادی کے ساتھ بڑے مالی نقصان کا خدشہ لاحق ہے۔
چمن بارڈر کی صورتحال کی وجہ سے کوئٹہ سے چمن کے لیے پسنجر ٹرین چھٹے روز بھی معطل رہی، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ پسنجر ٹرین آج سے بحال ہونے کا امکان ہے۔
دوسری طرف کوئٹہ سے پشاور کے لیے جعفر ایکسپریس معمول کے مطابق روانہ ہو رہی ہے۔
تاجروں نے جلد از جلد تجارتی سرگرمیاں بحال کرنے اور زمینی رابطے کھولنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان کاروباری سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔
یہ بھی پڑھیں : چمن کے بعد طورخم تجارتی گزرگاہ کی بھی بحالی کا امکان
پاکستان اور افغانستان کے درمیان طورخم تجارتی گزرگاہ جلد تجارتی سرگرمیوں کے لیے کھل سکتی ہے
چمن سرحد کی بحالی کے بعد پاکستان اور افغانستان کے درمیان طورخم تجارتی گزرگاہ کی بحالی کا امکان بڑھ گیا ہے۔
کسٹمز ذرائع کے مطابق طورخم ٹرمینل کی تجارتی گزرگاہ دوطرفہ تجارت کے لیے کھولنے کی تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور کسی بھی وقت طورخم سرحد کھول دی جا سکتی ہے۔
طورخم میں کسٹمز عملہ پہلے ہی تعینات کر دیا گیا ہے اور کارگو گاڑیوں کی کلیئرنس کے لیے جدید اسکینر بھی نصب کر دیے گئے ہیں۔
تجارتی گزرگاہ گزشتہ 9 دنوں سے بند تھی جس کے باعث ہزاروں کارگو گاڑیاں امپورٹ، ایکسپورٹ اور ٹرانزٹ ٹریڈ کے لیے پھنس گئی تھیں اور لمبی قطاریں لگ گئی تھیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان اور افغانستان کے درمیان اسپین بولدک بارڈر کراسنگ کھول دی گئی ہے،
تاہم اس وقت یہ سرحد صرف تجارتی سرگرمیوں کے لیے کھولی گئی ہے اور عام شہریوں کی پیدل آمدورفت کی اجازت ابھی تک نہیں دی گئی۔





