گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو مشورہ

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو قیامِ امن کے لیے مجوزہ جرگے سے قبل پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کا مشورہ دے دیا ہے۔

اپنے جاری بیان میں گورنر کا کہنا تھا کہ اگر وزیراعلیٰ جرگہ تشکیل دے رہے ہیں تو یہ عمل پارلیمنٹ کی مشاورت سے ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جرگے میں اپوزیشن سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو شامل کیا جائے۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت کو جلد یہ احساس ہو جائے گا کہ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے کن معاملات میں غلطیاں کیں۔

اُن کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو ضروری بریفنگ دی جا رہی ہے اور آنے والے دنوں میں حالات واضح ہو جائیں گے۔

گورنر نے یقین دہانی کروائی کہ جہاں بھی وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا  کو گورنر ہاؤس یا اپوزیشن کی مدد درکار ہوئی مثبت ردعمل دیا جائے گا۔

قبل ازیں آج گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے نوشہرہ کے علاقے ترناب فارم میں واقع عالمی شہد مارکیٹ کا دورہ کیا۔

اس موقع پر گورنر کو مارکیٹ میں تیار کی جانے والی مختلف اقسام کے شہد کا معائنہ کروایا گیا۔

ہنی بی ایسوسی ایشن کے صدر شیر زمان نے گورنر خیبرپختونخوا کو شہد کے کاروبار، عالمی منڈیوں تک رسائی، اور اس شعبے کو درپیش چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر قدرتی آفات سے شہد کی صنعت کو پہنچنے والے نقصانات کے ازالے کے لیے بھی درخواست پیش کی گئی۔

گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ترناب فارم میں قائم شہد مارکیٹ نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ شہد کے کاروبار اور شہد کی مکھیوں کی افزائش کے لیے جامع منصوبہ بندی کریں۔

فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں تیار ہونے والا شہد اپنی اعلیٰ معیار اور منفرد ذائقے کے باعث دنیا بھر میں مقبول ہے، اور اس صنعت کو مزید وسعت دینے کے لیے بین الاقوامی معیار کی ٹیسٹنگ و رجسٹریشن لیبارٹری کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔

گورنر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مقامی شہد کو یورپی منڈیوں تک پہنچانے کے لیے شہد کے کاروبار کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور اس کی بھرپور سرپرستی کی ضرورت ہے۔

Scroll to Top