سردی کے موسم کے آغاز کے ساتھ ہی نزلہ، زکام، کھانسی اور دیگر وائرل انفیکشنز میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ سردیوں میں خشک ہوا اور گھروں کے بند ماحول وائرس کے پھیلاؤ کو بڑھا دیتے ہیں، جس کی وجہ سے کمزور افراد خاص طور پر متاثر ہوتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سردیوں میں لوگ زیادہ تر وقت بند کمروں میں گزارتے ہیں جہاں وائرس ہوا کے ذریعے تیزی سے منتقل ہو سکتے ہیں۔ خشک سرد ہوا ناک اور گلے کی جھلیوں کی نمی ختم کر دیتی ہے، جس سے مدافعتی نظام کمزور ہو جاتا ہے اور جسم بیماریوں کے خلاف اپنا دفاع صحیح طریقے سے نہیں کر پاتا۔ اس کے علاوہ، درجہ حرارت میں کمی بھی قوت مدافعت کو متاثر کرتی ہے، جس سے انفیکشنز سے لڑنا مشکل ہو جاتا ہے۔
ماہرین نے چند احتیاطی تدابیر تجویز کی ہیں تاکہ سردیوں میں صحت برقرار رکھی جا سکے۔ ٹھنڈی ہوا اور اچانک درجہ حرارت کی تبدیلی سے بچنا ضروری ہے، اور باہر جاتے وقت گرم کپڑے پہننا چاہیے۔ وٹامن سی اور زنک سے بھرپور غذائیں جیسے پھل، سبزیاں، سوپ اور ہربل چائے مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
ہاتھوں کو بار بار صابن سے دھونا یا ہینڈ سینیٹائزر استعمال کرنا چاہیے، اور کھانسنے یا چھینکنے کے دوران منہ اور ناک کو ڈھانپنا لازمی ہے۔ ایسے افراد سے دور رہنا چاہیے جنہیں نزلہ یا زکام ہو، اور بھیڑ بھاڑ والی جگہوں پر ماسک پہننا ضروری ہے۔ روزانہ کم از کم چند منٹ کے لیے گھر کی کھڑکیاں کھول کر ہوا کی گردش کو یقینی بنائیں، اور اگر ہیٹر استعمال کر رہے ہوں تو پانی کا پیالہ قریب رکھیں تاکہ نمی برقرار رہے۔
خصوصاً بچوں، بزرگوں اور حاملہ خواتین کو انفلوئنزا کی ویکسین لگوانی چاہیے، جو سردیوں میں وائرل انفیکشنز کی شدت کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف معلوماتی ہے، کسی بھی بیماری کی تشخیص یا علاج کے لیے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں۔





