پاکستانی فائٹر رضوان علی نے دبئی میں بھارتی حریف کو چند لمحوں میں ناک آؤٹ کر دیا

دبئی: پاکستانی مارشل آرٹس فائٹر رضوان علی نے دبئی میں اپنی غیرمعمولی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارتی حریف رانا پرتاپ سنگھ کو پہلے راؤنڈ میں ناک آؤٹ کر دیا۔

رپورٹس کے مطابق فائٹ کے آغاز کے چند لمحوں میں ہی رضوان علی نے اپنے حریف پر بھرپور دباؤ ڈالا اور فیصلہ کن وار کر کے مقابلہ اپنے نام کر لیا۔

اس کامیابی کے ساتھ ہی انہوں نے مسلسل گیارہویں فائٹ جیت کر اپنا ناقابل شکست ریکارڈ برقرار رکھا۔ فتح کے بعد رضوان علی کو 50 لاکھ روپے انعامی رقم سے بھی نوازا گیا۔

مقابلہ دیکھنے کے لیے معروف یو ایف سی چیمپئن خمزت چمیائف بھی دبئی پہنچے، جنہوں نے فائٹ کے بعد رضوان علی کو گلے لگا کر مبارکباد دی۔

جیت کے بعد رضوان علی نے کہا کہ یہ کامیابی پاکستان، پاک فوج اور پوری قوم کے نام ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر ایم ایم اے فیڈریشن عمر احمد ہمیشہ ان کی حوصلہ افزائی کرتے رہے ہیں۔

رضوان علی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ فائٹ سے قبل انہوں نے اپنے بھارتی حریف کو چیلنج کیا تھا اور بعد میں ہاتھ ملانے سے انکار کر دیا۔

ذرائعکے مطابق رضوان علی جلد یو ایف سی میں پاکستان کی نمائندگی کر سکتے ہیں اور وہ یو ایف سی میں حصہ لینے والے پہلے پاکستانی فائٹر بننے کے قریب ہیں، جو پاکستانی مارشل آرٹس کے لیے ایک نیا سنگ میل ثابت ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں : پی سی بی کی جانب سےمعطلی: ملتان سلطانز کا مؤقف سامنے آگیا

ملتان سلطانز کی جانب سے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی پابندی پر ردعمل سامنے آیا ہے جس میں انتظامیہ کا کہنا ہے کہ علی ترین کے بیانات پی ایس ایل کی بہتری کے لیے دیے گئے تھے اور پی سی بی کی طرف سے تعمیری تنقید کو جرم قرار دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے ملتان سلطانز کے خلاف معاہدے کی خلاف ورزی پر کارروائی کرتے ہوئے معطلی کا نوٹس جاری کیا تھا، بورڈ نے تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد فرنچائز کے معاہدے کی منسوخی کا باضابطہ نوٹس بھی بھیجا ہے۔

یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب فرنچائز کے مالک علی ترین نے بار بار پی سی بی اور پی ایس ایل انتظامیہ پر عوامی سطح پر تنقید کی۔

اپریل میں علی ترین نے ایک پوڈکاسٹ میں سوال اٹھایا تھا کہ پی ایس ایل 10 پچھلے سال کے مقابلے میں کس طرح بڑا اور بہتر ہے، کیونکہ وہی ٹیمیں اور میچز ہیں، کوئی نئی تبدیلی نظر نہیں آ رہی۔ بعد ازاں انہوں نے وضاحت کی کہ ان کے بیانات لیگ کی بہتری کے جذبے سے دیے گئے تھے، نہ کہ منفی مہم کے لیے۔

تاہم جولائی میں علی ترین نے دوبارہ پی سی بی پر تنقید کی اور کہا کہ پی ایس ایل کی کامیابی کا جشن منانا بے معنی ہے کیونکہ ناظرین کی تعداد اور شائقین کی دلچسپی کم ہو رہی ہے۔

پی سی بی کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ علی ترین کے بیانات سے لیگ کی ساکھ متاثر ہوئی ہے اور ان بیانات کو معاہدے کی خلاف ورزی تصور کیا گیا ہے۔ بورڈ نے اس سلسلے میں متعلقہ دفعات کا حوالہ دیا ہے جن کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

Scroll to Top