پانچ سال بعد پی آئی اے کی برطانیہ فلائٹس کی واپسی، مسافروں کے لیے بڑی خوشخبری

پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) پانچ سال کی تعطل کے بعد برطانیہ کے لیے اپنی فلائٹس دوبارہ شروع کرنے جا رہا ہے۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ اس حوالے سے تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور پہلی پرواز 25 اکتوبر کو پاکستان سے برطانیہ کے لیے روانہ ہوگی۔

پی آئی اے کا بوئنگ 777 طیارہ برطانوی فلائٹ آپریشن کی ذمہ داری سنبھالے گا، جبکہ ایک ٹیم پہلے ہی برطانیہ پہنچ گئی ہے تاکہ وہاں کے فلائٹ آپریشن کے لیے جائزہ لیا جا سکے۔

پی آئی اے کے ترجمان نے تصدیق کی کہ جہاز برطانیہ کے لیے پرواز کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور تمام حفاظتی و تکنیکی معیارات پر پورا اترتے ہیں۔

سی ای او پی آئی اے عامر حیات خود برطانوی فلائٹ آپریشن کی تیاریوں کی نگرانی کر رہے ہیں اور یقینی بنایا جا رہا ہے کہ پانچ سال بعد پی آئی اے کے طیارے بغیر کسی رکاوٹ کے برطانیہ میں لینڈ کریں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فلائٹ آپریشن کے بحال ہونے سے نہ صرف مسافروں کو سہولت ملے گی بلکہ پی آئی اے کے عالمی نیٹ ورک میں بھی بہتری آئے گی۔

یہ بھی پڑھیں : عوام کیلئے خوشخبری، پی آئی اے کی برطانیہ کیلئے پروازیں بحال، تاریخ بھی سامنے آ گئی

لندن: پاکستانی ہائی کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ قومی ایئر لائن پی آئی اے کی برطانیہ کے لیے براہ راست پروازیں رواں ماہ سے دوبارہ بحال کی جا رہی ہیں۔

ہائی کمیشن کے مطابق برطانوی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے پی آئی اے کو فارن ایئرکرافٹ آپریٹنگ پرمٹ جاری کر دیا ہے، جس کے بعد کئی برس سے معطل پروازوں کی بحالی ممکن ہو سکی ہے۔

ابتدائی مرحلے میں پی آئی اے کی پروازیں مانچسٹر کے لیے شروع کی جائیں گی، جب کہ دوسرے مرحلے میں لندن اور برمنگھم کے لیے بھی پروازیں چلائی جائیں گی۔

ہائی کمیشن نے کہا کہ پروازوں کی بحالی سے برطانیہ میں مقیم 17 لاکھ سے زائد پاکستانی نژاد کمیونٹی کو بڑی سہولت میسر آئے گی، جو طویل عرصے سے اس فیصلے کی منتظر تھی۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ پیش رفت نہ صرف مسافروں کے لیے آسانی پیدا کرے گی بلکہ تجارتی، خاندانی اور سماجی روابط کو بھی فروغ دے گی۔

یہ بھی پڑھیں : چینی کی قیمتوں نے بھی سنچری پار کی، حکومتی دعوے دھرے کے دھرے

واضح رہے کہ پی آئی اے کی پروازیں 2020 کے بعد سے مختلف وجوہات کی بنا پر برطانیہ کے لیے معطل تھیں۔

اب پرمٹ کے اجرا کے بعد ان پروازوں کی بحالی کو خوش آئند پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مزید بہتری کی امید کی جا رہی ہے۔

Scroll to Top