ہندوستان کی آبی دہشت گردی، افغانستان کے ساتھ مل کر خیبرپختونخوا کا پانی روکنے کا گھناؤنا پلان

بھارت اور طالبان کے زیرِ حکمرانی افغانستان کے درمیان پانی کے حوالے سے ایک متنازع منصوبہ سامنے آیا ہے جس کے تحت خیبرپختونخوا کے عوام کے پانی پر اثر پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

افغان وزارت اطلاعات کے مطابق طالبان نے دریائے کنر پر جلد از جلد بند تعمیر کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔

انڈیا ٹوڈے میں شائع مضمون کے مطابق طالبان کے رہنما ہیبت اللہ اخوندزادہ نے وزارت پانی و توانائی کو ہدایت کی ہے کہ ملکی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کریں اور منصوبے پر فوری عمل شروع کیا جائے۔

افغان وزارت کے مطابق یہ فیصلہ بھارت کے حالیہ پانی کے اقدامات کے بعد آیا ہے، بھارت نے سندھ طاس معاہدہ مؤخر کر دیا تھا جس کے تحت تین مغربی دریاؤں کا پانی پاکستان کے ساتھ بانٹا جاتا تھا جس کے بعد پانی کے مسئلے پر کشیدگی میں اضافہ ہوا۔

طالبان حکومت کے اس فیصلے کے ایک ہفتے بعد افغان وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے بھارت کا دورہ کیا اور اپنے بھارتی ہم منصب ایس جے شنکر سے ملاقات کی۔

مشترکہ بیان میں دونوں ممالک نے ہرات میں بھارت افغانستان فرینڈشپ ڈیم کی تعمیر و دیکھ بھال میں بھارت کی معاونت کی تعریف کی اور افغانستان میں توانائی اور زرعی ترقی کے لیے ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں پر تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا وزیرخارجہ کے افغان دورے پر سخت ردعمل

ماہرین اور پاکستانی حلقوں کے مطابق بھارت اور افغانستان کے اس منصوبے کے عملی اثرات خیبرپختونخوا کے عوام کے پانی کی فراہمی پر مرتب ہو سکتے ہیں جسے خطے میں پانی کی سلامتی اور پاکستان کی زرعی ضروریات کے لیے ایک اہم چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔

Scroll to Top